عربی (اصل)
نا نا أَبُو قُدَامَةَ الْحَرْثُ بْنُ عُبَيْدٍ الإِيَادِيُّ، قَالَ: نا عَامِرٌ الأَحْوَلُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" كَانَإِيلاءُ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ السَّنَةَ وَالسَّنَتَيْنِ، وَأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، فَوَقَّتَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ، فَمَنْ كَانَ إِيلاؤُهُ أَقَلَّ مِنْ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَلَيْسَ بِإِيلاءٍ".
انگریزی ترجمہ
Ibn 'Abbas said: "The ila' of the people of Jahiliyyah (pre-Islamic era) used to be for a year, two years, or more. Allah the Almighty set the limit at four months. So whoever's ila' is less than four months, it is not ila'."
اردو ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:”زمانہ جاہلیت میں لوگ سالوں اور دو سالوں بلکہ اس سے بھی زیادہ مدت کا ایلاء کرتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے مدت چار ماہ مقرر کر دی۔ اب جو ایلاء چار ماہ سے کم ہو، وہ ایلاء نہیں۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3061]
