عربی (اصل)
نَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، قَالَ: نَا سَلَمَةُ بْنُ نُبَيْطٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَهُ بِخُرَاسَانَ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ:نَبِّئْنَا بِتَأْوِيلِهِ إِنَّا نَرَاكَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ سورة يوسف آية 36: مَا كَانَ إِحْسَانُ يُوسُفَ قَالَ الضَّحَّاكُ:" كَانَ إِذَا مَرِضَ إِنْسَانٌ قَامَ عَلَيْهِ، وَإِذَا ضَاقَ أَوْسَعَ لَهُ، وَإِذَا احْتَاجَ جَمَعَ لَهُ".
انگریزی ترجمہ
Sa'id ibn Jubayr (may Allah have mercy on him) said regarding the verse: 'The matter has been decreed about which you both inquire' (Yusuf: 41) — He said: 'The matter of freedom for one and crucifixion for the other.'
اردو ترجمہ
ضحاک رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ خراسان میں ہمارے ساتھ تھے، ایک آدمی نے ان سے اللہ عزوجل کے اس فرمان﴿نَبِّئْنَا بِتَأْوِيلِهِ إِنَّا نَرَاكَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ﴾یعنی ہمیں اس خواب کی تعبیر بتائیے، ہم آپ کو نیکوکاروں میں سے دیکھتے ہیں کے بارے میں سوال کیا، کہ سیدنا یوسف علیہ السلام کا احسان کیا تھا؟ ضحاک رحمہ اللہ نے فرمایا: جب کوئی بیمار ہوتا تو آپ اس کی تیمارداری کرتے، اور جب کسی کو تنگی پیش آتی تو اس کے لیے کشادگی پیدا کرتے، اور جب کسی کو ضرورت پیش آتی تو اس کی ضرورت پوری کرتے۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 1124]
