عربی (اصل)
نَا نَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَابْنِ عَبَّاسٍ" فَابْتَرَكَ رَجُلٌ مِنَ الأُمَرَاءِ، يُقَالُ لَهُ الْهَزْهَازُ، فَتَطَاوَلَ حَتَّى مَا رَأَيْتُ فِيَ الْبَيْتِ أَطْوَلَ مِنْهُ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَا هَزْهَازُ، لا تَكُنْ فِتْنَةً لِلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ، فَتَقَاصَرَ حَتَّى مَا رَأَيْتُ فِيَ الْبَيْتِ أَحَدًا أَقْصَرَ مِنْهُ".
انگریزی ترجمہ
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) was with us when a man from the rulers called al-Hazhaz came and sat up tall, until I saw no one taller in the house. Ibn Abbas said to him: 'O Hazhaz, do not be a trial for the wrongdoing people.' He then shrank until I saw no one shorter than him in the house.
اردو ترجمہ
ہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے کہ ایک امیر آیا جسے الہزہاز کہا جاتا تھا، وہ اکڑ کر بیٹھا یہاں تک کہ میں نے گھر میں اس سے لمبا کوئی نہ دیکھا، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا: اے ہزہاز!«لَا تَكُنْ فِتْنَةً لِلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ»یعنی ظالم قوم کے لیے آزمائش نہ بن، تو وہ سمٹ گیا یہاں تک کہ میں نے گھر میں اس سے زیادہ چھوٹا کسی کو نہ دیکھا۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 1071]
