عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ الْمُؤَذِّنُ إِذَا أَذَّنَ قَامَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَيَبْتَدِرُونَ السَّوَارِيَ يُصَلُّونَ حَتَّى يَخْرُجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَهُمْ كَذَلِكَ وَيُصَلُّونَ قَبْلَ الْمَغْرِبِ وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَ الأَذَانِ وَالإِقَامَةِ شَىْءٌ .
انگریزی ترجمہ
It is narrated that Hadrat Anas bin Malik (may Allah be well pleased with him) said: "When the Mu'adhdhin called the Adhan, some of the Companions of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) would get up and rush to the pillars (in the Masjid) and pray until the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) came out and they were like that. They would pray before Maghrib and there was nothing between the Adhan and Iqamah
اردو ترجمہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مؤذن جب اذان دیتا تو نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگ کھڑے ہوتے، اور ستون کے پاس جانے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے، اور نماز پڑھتے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نکلتے، اور وہ اسی طرح ( نماز کی حالت میں ) ہوتے، اور مغرب سے پہلے بھی پڑھتے، اور اذان و اقامت کے بیچ کوئی زیادہ فاصلہ نہیں ہوتا تھا ۱؎۔
