عربی (اصل)
أخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا عاصم بن محمد بن زيد، عن أبيه قال: كان أبو هريرة يقوم يومَ الجمعة إلى جانب المنبر فيَطرَحُ أعقابَ نعليه في ذراعَيهِ، ثم يَقبِضُ على رُمَّانة المنبر، يقول: قال أبو القاسم ﷺ …، قال محمدٌ ﷺ …، قال رسولُ الله ﷺ.... قال الصادقُ المصدوق ﷺ.... ثم يقول في بعض ذلك:"ويلٌ للعرب من شرٍّ قد اقتَرَب"، فإذا سمع حركةَ باب المقصورة بخروج الإمام جَلَس(1).هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا، وليس الغَرَضُ في تصحيح حديث:"ويلٌ للعرب من شرٍّ قد اقترب"، فقد أخرجاه(2)، إنما الغرضُ فيه استحبابُ رواية الحديث على المنبر قبل خروج الإمام.[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 367 - فيه انقطاع
انگریزی ترجمہ
Asim ibn Muhammad ibn Zayd narrated from his father that Abu Hurayrah used to stand beside the pulpit on Fridays, hang the straps of his sandals on his forearms, hold the knob of the pulpit and say: "Abu al-Qasim (peace be upon him) said...", "Muhammad (peace be upon him) said...", "The Messenger of Allah (peace be upon him) said...", "The truthful and trustworthy one (peace be upon him) said..." And among what he would say was: "Woe to the Arabs from an evil that has drawn near!" And when he heard the movement of the door of the enclosed area indicating the imam was coming out, he would sit down. Al-Hakim said: The purpose of citing this hadith is to show the recommendation of narrating hadith from the pulpit before the imam comes out.
اردو ترجمہ
عاصم بن محمد بن زید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن منبر کے پہلو میں کھڑے ہوتے، اپنے جوتوں کے تسمے اپنی کلائیوں میں ڈال لیتے اور منبر کے دستی (ہینڈل) کو تھام کر کہتے: ابوالقاسمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا... محمدصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا... رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا... صادق و مصدوقصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا... پھر اس دوران وہ یہ بھی کہتے:”عربوں کے لیے اس شر سے ہلاکت ہے جو قریب آ چکا ہے“، پھر جب وہ امام کے نکلنے پر مقصورہ کے دروازے کی حرکت محسوس کرتے تو بیٹھ جاتے۔یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا، اور یہاں مقصد”ویل للعرب“والی حدیث کی تصحیح نہیں کیونکہ وہ شیخین کے ہاں موجود ہے، بلکہ مقصد امام کے نکلنے سے پہلے منبر پر حدیث بیان کرنے کے مستحب ہونے کو واضح کرنا ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 372]
