عربی (اصل)
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حَرْب، حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أبي رافع قال: قال أبو هريرة: لولا ما أَخَذَ اللهُ على أهل الكتاب، ما حدَّثتُكم بشيءٍ، ثم تَلَا: ﴿وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ﴾[آل عمران: 187](2).هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولا أعلمُ له علَّةً، ولم يُخرجاه.[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 366 - لا أعلم له علة
انگریزی ترجمہ
Abu Rafi' narrated that Abu Hurayrah said: "Were it not for the covenant that Allah took from the People of the Book, I would not have narrated anything to you." Then he recited: "And when Allah took the covenant of those who were given the Book: 'You shall make it clear to the people and not conceal it'" [Al Imran: 187]. Al-Hakim said: This hadith is sound according to the conditions of Muslim, and I know of no defect in it, though the two Shaykhs did not include it.
اردو ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:”اگر وہ عہد نہ ہوتا جو اللہ تعالیٰ نے اہلِ کتاب سے لیا ہے تو میں تمہیں (رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی) کوئی بات نہ بتاتا“، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی:﴿وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ﴾”اور جب اللہ نے ان لوگوں سے پختہ عہد لیا جنہیں کتاب دی گئی تھی کہ تم اسے لوگوں کے لیے ضرور واضح کرو گے اور اسے نہیں چھپاؤ گے۔“[سورة آل عمران: 187]یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، مجھے اس میں کوئی علت معلوم نہیں ہوتی لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 371]
