عربی (اصل)
حدَّثَناه أبو عبد الله الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو حاتم محمد ابن إدريس الحَنظَلي، حدثنا عبد الله بن يوسف التِّنِّيسي، حدثنا الليث، عن يزيد بن الهاد، عن محمد بن إبراهيم، عن خالد بن مَعْدانَ، عن عبد الرحمن بن عمرو، عن العِرْباض بن ساريةَ، من بني سُلَيم من أهل الصُّفّة، قال: خَرَجَ علينا رسولُ الله ﷺ يومًا فقام فوَعَظَ الناس، ورغَّبهم وحذَّرهم، وقال ما شاء اللهُ أن يقول، ثم قال:"اعبُدوا اللهَ ولا تُشركوا به شيئًا، وأَطِيعوا مَن وَلَّاه اللهُ أمرَكم، ولا تُنازِعُوا الأمرَ أهلَه ولو كان عبدًا أسودَ، وعليكم بما تَعرِفون من سُنَّة نبيِّكم والخُلفاءِ الراشدين المهديِّين، وعَضُّوا على نَواجِذِكم بالحق"(1). هذا إسناد صحيح على شرطهما جميعًا، ولا أعرفُ له علَّةً. وقد تابع ضَمْرةُ بنُ حبيب خالدَ بنَ مَعْدانَ على رواية هذا الحديث عن عبد الرحمن بن عمرو السُّلَمي:[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 330 - على شرطهما ولا أعرف له علة
انگریزی ترجمہ
Al-'Irbad ibn Sariyah (who was one of the People of the Suffah and about whom the verse was revealed: "Nor upon those who, when they came to you to provide them with mounts..." [al-Tawbah: 92]) narrated: The Messenger of Allah (peace be upon him) came out to us one day, then stood and admonished the people, encouraging them and warning them. Then he said: "Worship Allah and do not associate anything with Him, and obey whoever Allah has placed in authority over you. Do not dispute with those in authority, even if it is a black slave. Hold fast to what you know of the Sunnah of your Prophet and of the rightly-guided caliphs, and bite onto your molars with the truth."
اردو ترجمہ
سیدنا العرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ (جو کہ بنو سلیم سے تھے اور اہل صفہ میں شامل تھے) سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمایک دن ہمارے پاس تشریف لائے اور لوگوں کو وعظ فرمایا جس میں رغبت بھی دلائی اور (برے انجام سے) ڈرایا بھی، پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور اس شخص کی اطاعت کرو جسے اللہ تمہارے معاملے کا ذمہ دار بنا دے، اور صاحبِ اقتدار سے اقتدار کے معاملے میں جھگڑا نہ کرو اگرچہ وہ کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، اور تم پر لازم ہے کہ اپنے نبی کی سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو پہچانو اور اس حق پر اپنی ڈاڑھوں کے ساتھ مضبوطی سے قائم رہو۔“یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے اور مجھے اس میں کوئی علت معلوم نہیں ہوتی۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 334]
