عربی (اصل)
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّورِي، حدثنا أبو عاصم، حدثنا ثَوْر بن يزيد، حدثنا خالد بن مَعْدان، عن عبد الرحمن بن عمرو السُّلَمي، عن العِرْباض بن سارِيَة قال: صلَّى لنا رسول الله ﷺ صلاةَ الصبح، ثم أقبلَ علينا فوَعَظَنا مَوعِظةً وَجِلَت منها القلوب، وذَرَفَت منها العيون، فقلنا: يا رسول الله، كأنها موعظةُ مُودِّعٍ، فأَوصِنا، قال:"أُوصِيكُم بتقوى الله والسمعِ والطاعةِ وإنْ أُمّرَ عليكم عبدٌ(1)، فإنه من يَعِشْ منكم فسيَرى اختلافًا كثيرًا، فعليكم بسُنَّتي وسُنَّةِ الخلفاءِ الراشدين المهديِّين، عَضُّوا عليها بالنَّواجِذ، وإياكم ومُحدَثاتِ الأمور، فإنَّ كلَّ بِدْعةٍ ضلالةٌ"(2).هذا حديث صحيح ليس له علَّة، وقد احتَجَّ البخاريُّ بعبد الرحمن بن عمرو وثَوْر بن يزيد، وروى هذا الحديث في أول كتاب الاعتصام بالسُّنة(3)، والذي عندي أنهما رحمهما الله توهما أنه ليس له راوٍ عن خالد بن مَعْدانَ غير ثور بن يزيد، وقد رواه محمد بن إبراهيم بن الحارث المخرَّج حديثُه في"الصحيحين" عن خالد بن مَعْدان:[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 329 - صحيح ليس له علة
انگریزی ترجمہ
Al-'Irbad ibn Sariyah narrated: The Messenger of Allah (peace be upon him) led us in the Fajr prayer, then he turned to us and gave us an admonition that made hearts tremble and eyes shed tears. We said: "O Messenger of Allah, this seems like a farewell sermon, so advise us." He said: "I enjoin upon you the fear of Allah, and to listen and obey, even if a slave is made your leader. Whoever among you lives long will see much disagreement. So hold fast to my Sunnah and the Sunnah of the rightly-guided caliphs; bite onto it with your molars. Beware of newly invented matters, for every innovation is misguidance."
اردو ترجمہ
سیدنا العرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف رخِ مبارک کر کے ہمیں ایسا رقت آمیز وعظ فرمایا جس سے دل لرز گئے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے یہ کسی رخصت ہونے والے کا وعظ ہو، لہٰذا ہمیں کوئی وصیت فرمائیے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میں تمہیں اللہ سے ڈرنے، اور (حکمران کی بات) سننے اور اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں اگرچہ تم پر کوئی غلام ہی امیر کیوں نہ بنا دیا جائے، کیونکہ جو تم میں سے (میرے بعد) زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا، تو تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑ لینا، اسے اپنی ڈاڑھوں کے ساتھ مضبوطی سے تھام لینا، اور (دین میں) نئی پیدا شدہ باتوں سے بچنا کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے۔“یہ حدیث صحیح ہے اور اس میں کوئی علت نہیں، امام بخاری نے عبدالرحمن بن عمرو اور ثور بن یزید سے احتجاج کیا ہے اور اس حدیث کو اپنی کتاب الاعتصام بالسنۃ کے شروع میں ذکر کیا ہے، اور میرے نزدیک ان دونوں (امام بخاری و مسلم) کو یہ وہم ہوا کہ خالد بن معدان سے ثور بن یزید کے علاوہ کوئی اور راوی نہیں ہے، حالانکہ اسے محمد بن ابراہیم بن حارث نے بھی خالد بن معدان سے روایت کیا ہے جن کی حدیث شیخین میں موجود ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 333]
