عربی (اصل)
حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى وأبو الحسن بن أبي القاسم العَدَوي قالا: حدثنا أبو بكر محمد بن إسحاق، حدثنا أحمد بن حفص بن عبد الله، حدثني أَبي، حدثني إبراهيم بن طَهْمانَ، عن الحَجَّاج، عن قَتَادة، عن أنس بن مالك أنه قال: قال رسول الله ﷺ:"الأخِلَّاءُ ثلاثةٌ: فأما خليلٌ فيقول: لك ما أعطيتَ وما أمسكتَ فليس لك، فذلك مالُك، وأما خليلٌ فيقول: أنا معك حتى تأتيَ بابَ الملِك، ثم أرجِعُ وأترُكُك، فذلك أهلُك وعَشيرتُك، يُشيِّعونَك حتى تأتيَ قبرَك، ثم يَرجِعون فيَترُكونَك، وأمّا خليلٌ فيقول: أنا معك حيث دخلتَ وحيث خرجتَ، فذلك عملُه، فيقول: والله لقد كنتَ من أهوَنِ الثلاثةِ عليَّ"(1).هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، فقد احتجَّا جميعًا بالحجَّاج بن الحجَّاج، ولا أعرفُ له عِلَّةً، ولم يُخرجاه على هذه السِّياقة، وله شاهد قد خرَّجاه:[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 248 - على شرطهما ولا علة له
انگریزی ترجمہ
Anas ibn Malik narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "There are three close companions: one says: 'Whatever you gave away is yours, and whatever you held back is not yours' — that is your wealth. Another says: 'I am with you; I will carry you and set you down, but when you die, I will leave you' — that is your family and relatives, who accompany your funeral procession to your grave and then leave you. And the third says: 'I am with you; I will enter with you and exit with you' — that is your deeds."
اردو ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”دوست تین طرح کے ہوتے ہیں؛ ایک وہ دوست ہے جو کہتا ہے: جو تو نے (اللہ کی راہ میں) دے دیا وہ تیرا ہے اور جو تو نے روک لیا وہ تیرا نہیں ہے، تو وہ تمہارا ’مال‘ ہے۔ دوسرا دوست وہ ہے جو کہتا ہے: میں تمہارے ساتھ ہوں یہاں تک کہ تم بادشاہ کے دروازے تک پہنچ جاؤ، پھر میں واپس لوٹ جاؤں گا اور تمہیں تنہا چھوڑ دوں گا، تو یہ تمہارے ’اہل و عیال اور رشتہ دار‘ ہیں جو تمہارے جنازے کے ساتھ قبر تک جاتے ہیں اور پھر تمہیں چھوڑ کر واپس آ جاتے ہیں۔ اور تیسرا دوست وہ ہے جو کہتا ہے: تم جہاں بھی داخل ہوگے اور جہاں سے بھی نکلو گے میں تمہارے ساتھ رہوں گا، تو وہ انسان کا ’عمل‘ ہے، (اس وقت انسان اپنے عمل سے کہتا ہے:) اللہ کی قسم! تم ان تینوں میں سے میرے لیے سب سے زیادہ معمولی اور کم تر حیثیت رکھتے تھے۔“یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، انہوں نے حجاج بن حجاج سے احتجاج کیا ہے، اس میں کوئی علت نہیں ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق (ترتیب) کے ساتھ روایت نہیں کیا، البتہ اس کا ایک شاہد (تائیدی روایت) موجود ہے جسے انہوں نے روایت کیا ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 250]
