عربی (اصل)
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بكَّار بن قُتيبة القاضي بمصر، حدثنا صفوان بن عيسى القاضي، حدثنا الحارث بن عبد الرحمن بن أبي ذُبَاب، عن سعيد بن أبي سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ:"لمّا خَلَقَ اللهُ آدمَ ونَفَخَ فيه الروحَ عَطَسَ، فقال: الحمدُ لله، فحَمِدَ الله بإذن الله، فقال له ربُّه: رَحِمَك ربُّك يا آدم، وقال له: يا آدمُ، اذهب إلى أولئك الملائكة -إلى ملأٍ منهم جلوس- فقل: السلامُ عليكم، فذهب فقالوا: وعليك السلامُ ورحمةُ الله وبركاتُه، ثم رجع إلى ربِّه، فقال: هذه تحيَّتُك وتحيَّةُ بَنِيك وبنيهم، فقال الله له ويداه مقبوضتان: اختر أيهما شئت، فقال: اخترتُ يمين ربي، وكِلْنا يَدَيْ ربي يمينٌ مُباركة، ثم بَسَطَها، فإذا فيها آدمُ وذُرِّيتُه، فقال: أي ربِّ، ما هؤلاء؟ قال: هؤلاء ذُرِّيّتُك، فإذا كلُّ إنسانٍ مكتوبٌ عمرُه بين عينيه، وإذا فيهم رجلٌ أضوَؤُهم -أو قال: من أضوئهم- لم يكتب له إلّا أربعين سنة، قال: يا ربِّ، زِدْ في عمرِه، قال: ذاك الذي كُتِبَ له، قال: فإني قد جعلتُ له من عمري ستين سنةً، قال: أنت وذاك، قال: ثم أُسكِنَ الجنةَ ما شاء الله، ثم أُهبِطَ منها آدمُ يعدُّ لنفسه، فأتاه مَلَكُ الموت، فقال له آدم: قد عَجِلتَ، قد كُتِبَ لي ألفُ سنة، قال: بلى، ولكنك جعلتَ لابنك داودَ منها ستين سنة، فَجَحَدَ فَجَحَدَت ذريتُه، ونَسِيَ فنَسِيَت ذريتُه، فيومئذٍ أُمِرَ بالكتاب والشُّهود"(1).هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ بالحارث بن عبد الرحمن بن أبي ذُبَاب، وقد رواه عنه غيرُ صفوان(1)، وإنما خرَّجتُه من حديث صفوان لأني عَلَوتُ فيه. وله شاهدٌ صحيح:[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 214 - على شرط مسلم
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When Allah created Adam and blew the spirit into him, Adam sneezed and said: 'Al-hamdu lillah (All praise is due to Allah),' praising Allah by His permission. His Lord said to him: 'May your Lord have mercy on you, O Adam.' Then He said: 'O Adam, go to those angels — to a group of them sitting — and say: Al-salamu alaykum (Peace be upon you).' So he went and said it, and they replied: 'Wa alayka al-salam wa rahmatullahi wa barakatuh (And upon you be peace, and the mercy and blessings of Allah).' Then he returned to his Lord, and He said: 'This is your greeting and the greeting of your descendants among themselves.' Then Allah, with both His hands closed, said: 'Choose whichever one you wish.' Adam said: 'I choose the right hand of my Lord, and both hands of my Lord are right and blessed.' Then He opened it, and therein were Adam and his progeny."
اردو ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان میں روح پھونکی تو انہیں چھینک آئی، انہوں نے اللہ کے حکم سے 'الحمد للہ' کہا، تو ان کے رب نے فرمایا: اے آدم! تیرے رب نے تجھ پر رحم فرمایا، پھر اللہ نے فرمایا: اے آدم! فرشتوں کی اس جماعت کے پاس جاؤ جو وہاں بیٹھی ہے اور کہو 'السلام علیکم'؛ وہ گئے اور (سلام کیا تو) فرشتوں نے جواب دیا 'وعلیک السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ'؛ پھر وہ اپنے رب کے پاس واپس آئے تو اللہ نے فرمایا: یہ تمہارا اور تمہاری اولاد کا باہمی سلام و تحیہ ہے۔ پھر اللہ نے اپنی دونوں مٹھیاں بند کر کے فرمایا: ان میں سے جسے چاہو چن لو، آدم علیہ السلام نے عرض کیا: میں نے اپنے رب کے دائیں ہاتھ کا انتخاب کیا، اور میرے رب کے دونوں ہاتھ ہی دائیں (مبارک اور باعثِ خیر) ہیں۔ پھر اللہ نے اپنی مٹھی کھولی تو اس میں آدم اور ان کی تمام ذریت (نسل) موجود تھی، آدم علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے رب! یہ کون لوگ ہیں؟ اللہ نے فرمایا: یہ تمہاری اولاد ہے، اور ہر انسان کی دونوں آنکھوں کے درمیان اس کی عمر لکھی ہوئی تھی، آدم علیہ السلام نے ان میں ایک شخص کو دیکھا جو سب سے زیادہ روشن تھا لیکن اس کی عمر صرف چالیس سال لکھی تھی، آدم علیہ السلام نے عرض کیا: اے رب! اس کی عمر میں اضافہ فرما دے، اللہ نے فرمایا: اس کے لیے یہی لکھی گئی ہے، آدم علیہ السلام نے عرض کیا: میں نے اپنی عمر میں سے ساٹھ سال اسے دے دیے، اللہ نے فرمایا: یہ تمہارا اختیار ہے۔ پھر آدم علیہ السلام جب تک اللہ نے چاہا جنت میں رہے، پھر وہاں سے زمین پر اتارے گئے اور اپنی عمر کے دن گننے لگے، جب ملک الموت ان کے پاس آئے تو آدم علیہ السلام نے کہا: آپ جلدی آ گئے ہیں، میری عمر تو ایک ہزار سال لکھی گئی تھی، فرشتے نے کہا: جی ہاں، لیکن آپ نے اپنے بیٹے داؤد (علیہ السلام) کو اپنی عمر میں سے ساٹھ سال دے دیے تھے۔ پس آدم علیہ السلام نے (بشری تقاضے کے تحت) انکار کیا تو ان کی ذریت بھی انکار کرنے لگی، اور وہ بھول گئے تو ان کی ذریت بھی بھولنے لگی، اسی دن سے (معاملات میں) تحریر اور گواہوں کا حکم دیا گیا۔“یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے حارث بن عبدالرحمن سے احتجاج کیا ہے، اور اسے صفوان کے علاوہ دیگر راویوں نے بھی روایت کیا ہے، لیکن میں نے صفوان کی سند اس لیے ذکر کی کیونکہ وہ عالی سند ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 215]
