عربی (اصل)
حدثنا عليُّ بن حَمْشاذَ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق والعباس بن الفضل قالا: حدثنا أحمد بن يونس. وأخبرني أحمد بن محمد العنزي - واللفظ له - حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا أبو بكر بن عيَّاش، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي سعيد قال: قال عمرُ: يا رسول الله، سمعتُ فلانًا يَذكُر ويُثْني خيرًا، زَعَمَ أَنك أعطيته دينارين، قال:"لكن فلانٌ ما يقول ذلك، ولقد أصابَ منِّي ما بين مئة إلى عَشَرة" قال: ثم قال:"وإنَّ أحدكم لَيَخْرُجُ من عندي بمسألته مُتأَبَّطَها - قال أحمد: أو نحوه - وما هي إلا نارٌ" قال: فقال عمر: يا رسول الله، فلِمَ تُعطيهم؟ قال:"ما أَصنَعُ؟ يسألوني ويأبى الله لى البخل"(2).هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه بهذه السِّياقة(1). وقد رواه عبد الله بن بشر الرَّقِّي عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر:[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 143 - على شرط الشيخين
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Allah created mercy in one hundred parts. He kept ninety-nine parts with Himself and sent down one part to the earth. From that one part comes all the compassion that creation shows to one another, so much so that an animal lifts its hoof away from its young for fear of trampling it."
اردو ترجمہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے فلاں شخص کو آپ کا ذکر کرتے اور آپ کی تعریف کرتے ہوئے سنا ہے، اس کا خیال ہے کہ آپ نے اسے دو دینار عطا کیے ہیں، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”لیکن فلاں شخص ایسی بات نہیں کرتا، حالانکہ اسے مجھ سے دس سے سو (دینار) کے درمیان مل چکے ہیں“، پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تم میں سے کوئی میرے پاس سے اپنا سوال (مانگی ہوئی چیز) لے کر نکلتا ہے اور اسے اپنی بغل میں دبائے ہوتا ہے، حالانکہ وہ (مانگی ہوئی چیز) اس کے لیے محض آگ ہوتی ہے“، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! پھر آپ انہیں کیوں عطا فرماتے ہیں؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میں کیا کروں؟ وہ مجھ سے مانگتے ہیں اور اللہ کو یہ پسند نہیں کہ میں بخل سے کام لوں۔“یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 144]
