عربی (اصل)
حدثنا أبو العباس عبد الله بن الحسين القاضي بمَرو وأبو عبد الله محمد ابن علي بن مَخلَد الجوهري ببغداد قالا: حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا سعيد بن عامر الضُّبَعي، حدثنا محمد بن عمرو بن عَلقَمة، عن أبيه، عن جدِّه علقمة بن وَقَّاص قال: كان رجلٌ بَطّالٌ يدخل على الأمراء فيُضحكهم، فقال له جدِّي: وَيْحَكَ يا فلان، لِمَ تدخلُ على هؤلاء وتُضحِكُهم؟ فإني سمعتُ بلال بن الحارث المُزَني صاحبَ رسول الله ﷺ يحدِّث أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إنَّ العبدَ لَيَتَكَلَّمُ بالكلمة من رِضْوانِ الله، ما يَظُنُّ أن تَبْلُغَ مَا بَلَغَت، فيرضى اللهُ بها عنه إلى يوم يلقاهُ(1)، وإنَّ العبدَ لَيَتكلَّمُ بالكلمة من سَخَطِ الله، ما يَظُنُّ أن تبلُغَ ما بَلَغَت، فيَسخَطُ الله بها إلى يوم يلقاهُ"(2).هذا حديث صحيح، وقد احتجَّ مسلمٌ بمحمد بن عمرو، وقد أقام إسناده عنه سعيدُ بن عامر كما أوردتُه عاليًا، هكذا رواه سفيانُ الثَّوري وإسماعيل بن جعفر وعبد العزيز الدَّراوَرْدي ومحمد بن بِشر العبدي وغيرهم. أمَّا حديث الثَّوري:[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 136 - هذا صحيح
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When Allah created Paradise and the Fire, He sent Jibril to Paradise and said: 'Look at it and at what I have prepared in it for its people.' He looked at it and at what Allah had prepared in it for its people, then returned and said: 'By Your Honor, no one will hear of it except that he will enter it.'"
اردو ترجمہ
سیدنا علقمہ بن وقاص سے روایت ہے کہ ایک مسخرا آدمی تھا جو امراء کے پاس جایا کرتا تھا اور انہیں اپنی باتوں سے ہنساتا تھا، تو میرے دادا (علقمہ) نے اس سے کہا: افسوس ہے تم پر اے فلاں! تم ان لوگوں کے پاس کیوں جاتے ہو اور انہیں ہنساتے ہو؟ جبکہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے صحابی سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”بے شک بندہ اللہ کی رضا مندی والی کوئی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کے بارے میں اس کا گمان بھی نہیں ہوتا کہ وہ اس درجے کو پہنچ جائے گی جہاں وہ پہنچ گئی، تو اللہ اس بات کی وجہ سے اس سے اپنی ملاقات کے دن تک راضی ہو جاتا ہے، اور بے شک بندہ اللہ کی ناراضگی والی کوئی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کے بارے میں اسے خیال بھی نہیں ہوتا کہ وہ اتنی دور تک پہنچ جائے گی، تو اللہ اس بات کی وجہ سے اس سے اپنی ملاقات کے دن تک کے لیے ناراض ہو جاتا ہے۔“یہ صحیح حدیث ہے، امام مسلم نے محمد بن عمرو سے احتجاج کیا ہے، اور سعید بن عامر نے ان سے اس کی سند کو اسی طرح قائم کیا ہے جیسے میں نے اوپر ذکر کیا، اسی طرح اسے سفیان ثوری، اسماعیل بن جعفر، عبدالعزیز دراوردی اور محمد بن بشر عبدی وغیرہ نے بھی روایت کیا ہے۔ رہی امام ثوری کی حدیث:[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 137]
