عربی (اصل)
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ الْقُرِّيُّ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - يَقُولُ أَهَلَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِعُمْرَةٍ وَأَهَلَّ أَصْحَابُهُ بِحَجٍّ فَلَمْ يَحِلَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَلاَ مَنْ سَاقَ الْهَدْىَ مِنْ أَصْحَابِهِ وَحَلَّ بَقِيَّتُهُمْ فَكَانَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فِيمَنْ سَاقَ الْهَدْىَ فَلَمْ يَحِلَّ .
انگریزی ترجمہ
Muslim al-Qurri heardlbn 'Abbas (Allah be pleased with them) saying that Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) entered into the state of Ihram for Umra and his Companions for Hajj. Neither Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) nor those among his Companions who had brought sacrificial animals with them put off Ihram, whereas the rest (of the pilgrims) did so. Hadrat Talha b. Ubaidullah was one of those who had brought the sacrificial animals along with them so he did not put off Ihram
اردو ترجمہ
حضرت معاذ ( بن حضرت معاذ ) نے ہمیں شعبہ سے حدیث سنائی ، ( کہا : ) مسلم قریؒ نے ہمیں حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ فرمارہے تھے : ( حجۃ الوداع کے موقع پر اولاً ) رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ( حج کے ساتھ ملاکر ) عمرہ کرنے کا تلبیہ پکاراتھا ، اور آپ کے ( بعض ) صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے حج کا تلبیہ پکارا تھا ، پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے وہ صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین جو قربانیاں ساتھ لائے تھے ، انھوں نے ( جب تک حج مکمل نہ کرلیا ) احرام نہ کھولا ، باقی صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے ( جن کےہمراہ قربانیاں نہ تھیں ) احرام کھول دیا ۔ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی انھی لوگوں میں سے تھے جو قربانیاں ساتھ لائے تھے ، لہذا انھوں نے احرام نہ کھولا ۔
