عربی (اصل)
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كُلُّهُمْ عَنْ جَرِيرٍ، - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، - عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ { لاَ تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ} قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ جِبْرِيلُ بِالْوَحْىِ كَانَ مِمَّا يُحَرِّكُ بِهِ لِسَانَهُ وَشَفَتَيْهِ فَيَشْتَدُّ عَلَيْهِ فَكَانَ ذَلِكَ يُعْرَفُ مِنْهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى { لاَ تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ} أَخْذَهُ { إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ} إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ نَجْمَعَهُ فِي صَدْرِكَ . وَقُرْآنَهُ فَتَقْرَأُهُ { فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ} قَالَ أَنْزَلْنَاهُ فَاسْتَمِعْ لَهُ { إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ} أَنْ نُبَيِّنَهُ بِلِسَانِكَ فَكَانَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ أَطْرَقَ فَإِذَا ذَهَبَ قَرَأَهُ كَمَا وَعَدَهُ اللَّهُ .
انگریزی ترجمہ
Qutaibah ibn Sa'id, Hadrat Abu Bakr ibn Abi Shaibah and Ishaq ibn Ibrahim narrated to us, all from Jarir — Hadrat Abu Bakr said: Jarir ibn Abd al-Hamid narrated to us — from Musa ibn Abi A'ishah, from Sa'id ibn Jubair (may Allah have mercy on him), from Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both), regarding the words of Allah the Exalted: 'Do not move your tongue with it to hasten with it' (75:16). He said: When Hadrat Jibra'il (upon him be peace) brought revelation to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), he would move his tongue and lips (along with him to memorize it), and this was difficult for him and it was visible from his blessed countenance. So Allah the Exalted revealed: 'Do not move your tongue with it to hasten with it' — meaning to learn it quickly. 'Indeed, upon Us is its collection and its recitation' — meaning it is upon Us to collect it in your blessed heart, and its recitation (is also Our responsibility) so that you may recite it. 'So when We have recited it (through the angel), follow its recitation' — he said: meaning when We reveal it, then listen to it attentively. 'Then indeed, upon Us is its clarification' — meaning to make it clear through your tongue (to the people). Thereafter, when Hadrat Jibra'il (upon him be peace) came to him with revelation, he would lower his head and listen attentively, and when he departed, the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) would recite it as Allah had promised him.
اردو ترجمہ
ہم سے قتیبہ بن سعید، حضرت ابو بکر بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سب نے جریر سے روایت کی — حضرت ابو بکر نے کہا: ہم سے جریر بن عبد الحمید نے بیان کیا — موسیٰ بن ابی حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ سے، انہوں نے سعید بن جبیر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ﴾ ''آپ اس کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دیں تاکہ اسے جلدی حاصل کر لیں'' کے بارے میں روایت بیان کی، فرمایا: جب حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس وحی لے کر تشریف لاتے تو آپ (اسے یاد کرنے کے لیے ساتھ ساتھ) اپنی زبان اور ہونٹوں کو حرکت دیتے تھے، ایسا کرنا آپ پر گراں گزرتا تھا اور یہ آپ (کے چہرۂ مبارک) سے معلوم ہو جاتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ﴾ ''آپ اس (وحی) کے لیے اپنی زبان کو نہ ہلائیں کہ اسے جلد سیکھ لیں'' ﴿إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ﴾ ''بلاشبہ ہمارا ذمہ ہے اسے جمع کرنا اور اس کی قراءت'' یعنی ہمارا ذمہ ہے کہ اسے آپ کے سینۂ مبارک میں جمع فرمائیں اور اس کی قراءت (بھی ہمارے ذمے ہے) تاکہ آپ اس کی قراءت فرمائیں۔ ﴿فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ﴾ ''پھر جب ہم اسے پڑھیں (فرشتہ ہماری طرف سے تلاوت کرے) تو آپ اس کی قراءت کی اتباع فرمائیں'' فرمایا: یعنی جب ہم اسے نازل کریں تو آپ اسے غور سے سنیں۔ ﴿ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ﴾ ''پھر بلاشبہ ہمارے ذمے ہے اس کا بیان'' یعنی آپ کی زبان سے (لوگوں کے سامنے) بیان فرما دینا۔ پھر (اس کے بعد) جب حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس (وحی لے کر) تشریف لاتے تو آپ سر جھکا کر غور سے سنتے اور جب وہ تشریف لے جاتے تو اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق آپ اس کی قراءت فرماتے۔
