عربی (اصل)
وَعَن عطاءِ بن يسارٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ رَجُلٌ ثَائِرُ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يَأْمُرُهُ بِإِصْلَاحِ شَعْرِهِ وَلِحْيَتِهِ فَفَعَلَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَيْسَ هَذَا خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ ثَائِرُ الرَّأْسِ كَأَنَّهُ شَيْطَان» . رَوَاهُ مَالك
انگریزی ترجمہ
‘Ata’ b. Yasar told that when God’s messenger was in the mosque a man whose head and beard were dishevelled entered, and God’s messenger pointed his hand at him as though he were ordering him to arrange his hair and his beard. When he had done so and returned, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said, “Is this not better than that one of you should come with his head dishevelled, as though he were a devil ?” Malik transmitted it.
اردو ترجمہ
حضرت عطاء بن یسار فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ ایک شخص داخل ہوا جس کے سر اور داڑھی کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس کی طرف اشارہ فرمایا گویا حکم دے رہے تھے کہ اپنے بال اور داڑھی درست کرے۔ اس نے ایسا کیا اور واپس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا یہ اس سے بہتر نہیں کہ تم میں سے کوئی بکھرے بالوں کے ساتھ آئے جیسے وہ شیطان ہو؟ امام مالک نے روایت کیا۔
