عربی (اصل)
وَعنهُ قَالَ: كانَ فِيمَا احتجَّ فيهِ عُمَرُ أَنْ قَالَ: كَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثُ صَفَايَا بَنُو النَّضِيرِ وخيبرُ وفَدَكُ فَأَمَّا بَنُو النَّضِيرِ فَكَانَتْ حَبْسًا لِنَوَائِبِهِ وَأَمَّا فَدَكُ فَكَانَتْ حَبْسًا لِأَبْنَاءِ السَّبِيلِ وَأَمَّا خَيْبَرُ فَجَزَّأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ أَجزَاء: جزأين بينَ المسلمينَ وجزءً نَفَقَةً لِأَهْلِهِ فَمَا فَضُلَ عَنْ نَفَقَةِ أَهْلِهِ جَعَلَهُ بَيْنَ فُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
انگریزی ترجمہ
He told that one of the arguments put forward by 'Umar was that he said God’s Messenger received three things exclusively to himself:the B. an-Nadir, Khaibar and Fadak.1 The B. an-Nadir property was kept wholly for his own purposes,2 Fadak for travellers, and Khaibar was divided by God’s Messenger into three sections, two for the Muslims and one as a contribution for his family. If anything remained after making the contribution to his family, he divided it among the poor Emigrants. 1. Fadak was near Khaibar. It capitulated without fighting. 2. This would include, besides personal needs, the cost of entertaining guests, providing weapons and animals, etc. Abu Dawud transmitted it.
اردو ترجمہ
انہی سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو دلائل دیے ان میں یہ بھی تھا کہ فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے تین خاص مال تھے: بنو نضیر، خیبر اور فدک۔ بنو نضیر کا مال آپ کی ضروریات کے لیے مخصوص تھا، فدک مسافروں کے لیے مخصوص تھا اور خیبر کو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے تین حصوں میں تقسیم فرمایا: دو حصے مسلمانوں میں اور ایک حصہ اپنے اہل و عیال کے نفقے کے لیے، جو اہل و عیال کے خرچ سے بچ جاتا وہ فقیر مہاجرین میں تقسیم فرماتے۔ (حضرت ابوداؤد)
