عربی (اصل)
عَن عَطِيَّة القَرظِي قَالَ: كنتُ فِي سَبي قُرَيْظَةَ عُرِضْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانُوا يَنْظُرُونَ فَمَنْ أَنْبَتَ الشَّعَرَ قُتِلَ وَمَنْ لَمْ يُنْبِتْ لَمْ يُقْتَلْ فَكَشَفُوا عَانَتِي فَوَجَدُوهَا لَمْ تُنْبِتْ فَجَعَلُونِي فِي السَّبْيِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه. والدارمي
انگریزی ترجمہ
‘Atiya al-Qurazi said:I was among the captives of Quraiza who were brought before the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). The Companions examined us, and those who had begun to grow hair were killed, but those who had not were not killed. They uncovered my private parts and when they found that the hair had not begun to grow they put me among the captives. Abu Dawud, Ibn Majah and Darimi transmitted it.
اردو ترجمہ
حضرت عطیہ قرظی فرماتے ہیں: میں بنو قریظہ کے قیدیوں میں تھا۔ ہمیں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا۔ وہ دیکھتے تھے جس کے بال اگ آئے تھے اسے قتل کیا جاتا اور جس کے بال نہیں اگے تھے اسے قتل نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے میری زیرِ ناف جگہ کھولی اور پایا کہ بال نہیں اگے تھے تو مجھے قیدیوں میں شامل کر دیا۔ (حضرت ابوداؤد، ابن ماجہ و دارمی)
