عربی (اصل)
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّ جِبْرِيلَ هَبَطَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ: خَيِّرْهُمْ يَعْنِي أَصْحَابَكَ فِي أُسارى بدر: القتلَ والفداءَ عَلَى أَنْ يُقْتَلَ مِنْهُمْ قَابِلًا مِثْلُهُمْ " قَالُوا الْفِدَاءَ وَيُقْتَلَ مِنَّا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث غَرِيب
انگریزی ترجمہ
Hadrat ‘Ali reported the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) as saying that Gabriel came down to him and said to him, “Give them (i.e. your companions) their choice regarding the prisoners at Badr whether they should be killed or ransomed on condition that a like number of them should be killed the following year.” They replied, “We shall accept ransom and have some of us killed.” Tirmidhi transmitted it, saying this is a gharib tradition.
اردو ترجمہ
حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام آپ کے پاس اترے اور کہا: اپنے صحابہ کو بدر کے قیدیوں کے بارے میں اختیار دیں: قتل یا فدیہ اس شرط پر کہ اگلے سال ان میں سے اتنے ہی قتل کیے جائیں۔ صحابہ نے کہا: فدیہ قبول ہے اور ہم میں سے اتنے ہی شہید ہوں۔ ترمذی نے روایت کیا اور فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔
