عربی (اصل)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ فَأَقْبَلَ اللَّيْلُ قَالَ: «يَا أَرْضُ رَبِّي وَرَبُّكِ اللَّهُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّكِ وَشَرِّ مَا فِيكِ وَشَرِّ مَا خُلِقَ فِيكِ وَشَرِّ مَا يَدِبُّ عَلَيْكِ وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ أَسَدٍ وَأَسْودَ وَمِنَ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ وَمِنْ شَرِّ سَاكِنِ الْبَلَدِ وَمِنْ والدٍ وَمَا ولد» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
انگریزی ترجمہ
Hadrat Ibn ‘Umar said that when God’s messenger was travelling and night came on he said, "O earth, my Lord and your Lord is God; I seek refuge in God from your evil, the evil of what you contain, the evil of what has been created in you, and the evil of what creeps upon you; I seek refuge in God from lions, from large black snakes, from other snakes, from scorpions, from the evil of jinn which inhabit a settlement and from a parent and his offspring."* *This last phrase occurs in Qur’an, xc, 3 where it appears to be used in a straightforward sense; but in the tradition it is said to be a reference to lblis and his offspring of devils. Abu Dawud transmitted it.
اردو ترجمہ
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جب سفر میں ہوتے اور رات آ جاتی تو فرماتے: اے زمین! میرا رب اور تیرا رب اللہ ہے۔ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں تیرے شر سے اور جو تجھ میں ہے اس کے شر سے اور جو تجھ میں پیدا کیا گیا اس کے شر سے اور جو تجھ پر چلتا ہے اس کے شر سے۔ اور میں شیر، بڑے سیاہ سانپ، سانپ، بچھو، اس بستی کے باشندوں کے شر اور والد اور اس کی اولاد کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ (حضرت ابوداؤد)
