عربی (اصل)
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، كَبِرَ حَتَّى كَانَ لاَ يَقْدِرُ عَلَى الصِّيَامِ فَكَانَ يَفْتَدِي . قَالَ مَالِكٌ وَلاَ أَرَى ذَلِكَ وَاجِبًا وَأَحَبُّ إِلَىَّ أَنْ يَفْعَلَهُ إِذَا كَانَ قَوِيًّا عَلَيْهِ فَمَنْ فَدَى فَإِنَّمَا يُطْعِمُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مُدًّا بِمُدِّ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
انگریزی ترجمہ
Yahya (upon him be peace) related to me from Malik that he had heard that Anas ibn Malik used to pay fidya when he had grown old and could no longer manage to do the fast. Malik said, "I do not consider that to do so is obligatory, but what I like most is that a man does the fast when he is strong enough. Whoever pays compensation gives one mudd of food in place of every day, using the mudd of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) ."
اردو ترجمہ
امام مالک کو یہ روایت پہنچی کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ اتنے بوڑھے ہو گئے کہ روزہ نہیں رکھ سکتے تھے تو فدیہ دیتے تھے۔ امام مالک فرماتے ہیں: میں اسے واجب نہیں سمجھتا لیکن مجھے پسند ہے کہ جب طاقت ہو تو کرے، اور جو فدیہ دے تو ہر دن کے بدلے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے مد سے ایک مد کھلائے۔
