Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated: I waited a whole year wanting to ask Umar ibn al-Khattab about a verse, but could not bring myself to ask him out of awe. Finally, he went on Hajj and I went with him. On the way back, he went aside to relieve himself among the arak trees. I waited until he finished, then walked with him and asked: "O Commander of the Faithful, who were the two wives of the Prophet (peace be upon him) referred to in the verse 'If you both repent to Allah, for your hearts have deviated'?" (al-Tahrim: 4) He said: "How strange of you, O Ibn Abbas! They were Aisha and Hafsah." Then he began narrating the full account, relating how the Prophet (peace be upon him) had secluded himself from his wives for a month, and how Umar had visited the Prophet and received assurance that he had not divorced his wives, and the Prophet smiled. Umar also described the rivalry between the Ansar women and the Quraysh women regarding their influence, and how the wives of the Prophet had begun to talk back to him, which Umar found alarming, until the verse of choice was revealed.
اردو ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں ایک آیت کے متعلق سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھنے کے لیے ایک سال تک تردد میں رہا، ان کا اتنا ڈر غالب تھا کہ میں ان سے نہ پوچھ سکا، آخر وہ حج کے لیے گئے تو میں بھی ان کے ساتھ ہو لیا، واپسی میں جب ہم راستہ میں تھے تو رفع حاجت کے لیے وہ پیلو کے درختوں میں گئے، بیان کیا کہ میں ان کے انتظار میں کھڑا رہا، جب وہ فارغ ہو کر آئے تو پھر میں ان کے ساتھ چلا، اس وقت میں نے عرض کیا: اے امیر المومنین! امہات المومنین میں وہ کون سی دو عورتیں تھیں جنہوں نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے لیے متفقہ منصوبہ بنایا تھا؟ انہوں نے بتلایا کہ حفصہ اور عائشہ (رضی اللہ عنہما) تھیں، میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میں یہ سوال آپ سے کرنے کے لیے ایک سال سے ارادہ کر رہا تھا لیکن آپ کے رعب کی وجہ سے پوچھنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسا نہ کیا کرو، جس مسئلہ کے متعلق تمہارا خیال ہو کہ میرے پاس اس سلسلے میں کوئی علم ہے تو اسے پوچھ لیا کرو، اگر میرے پاس اس کا کوئی علم ہو گا تو تمہیں بتا دیا کروں گا، بیان کیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! جاہلیت میں ہماری نظر میں عورتوں کی کوئی عزت نہ تھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں وہ احکام نازل کیے جو نازل کرنے تھے اور ان کے حقوق مقرر کیے جو مقرر کرنے تھے۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے) بتلایا کہ ایک دن میں سوچ رہا تھا کہ میری بیوی نے مجھ سے کہا کہ بہتر ہے اگر تم اس معاملہ کو فلاں فلاں طرح کرو، میں نے کہا: تمہارا اس میں کیا کام؟ معاملہ مجھ سے متعلق ہے، تم اس میں دخل دینے والی کون ہوتی ہو؟ میری بیوی نے اس پر کہا: خطاب کے بیٹے! تمہارے اس طرز عمل پر حیرت ہے، تم اپنی باتوں کا جواب برداشت نہیں کر سکتے، تمہاری لڑکی (سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا) تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو بھی جواب دے دیتی ہیں، ایک دن تو انہوں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو ناراض بھی کر دیا تھا، یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور اپنی چادر اوڑھ کر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر پہنچے اور فرمایا: بیٹی! کیا تم رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی باتوں کا جواب دے دیتی ہو یہاں تک کہ ایک دن تم نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو دن بھر ناراض بھی رکھا ہے؟ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ہاں، اللہ کی قسم! ہم نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکو کبھی جواب دے دیتے ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کہا: جان لو میں تمہیں اللہ کی سزا اور اس کے رسولصلی اللہ علیہ وسلمکی ناراضگی سے ڈراتا ہوں، بیٹی! اس عورت کی وجہ سے دھوکہ میں نہ آ جانا جس نے نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکی محبت حاصل کر لی ہے، ان کا اشارہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا، کہا کہ پھر میں وہاں سے نکل کر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا کیونکہ وہ بھی میری رشتہ دار تھیں، میں نے ان سے بھی گفتگو کی، انہوں نے کہا: ابن خطاب! تعجب ہے کہ آپ ہر معاملہ میں دخل اندازی کرتے ہیں اور اب چاہتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلماور ان کی ازواج کے معاملات میں بھی دخل دیں، اللہ کی قسم! انہوں نے میری ایسی گرفت کی کہ میرے غصے کو ٹھنڈا کر کے رکھ دیا، میں ان کے گھر سے باہر نکل آیا۔ میرے ایک انصاری دوست تھے، جب میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی مجلس میں حاضر نہ ہوتا تو وہ مجلس کی تمام باتیں مجھے آ کر بتایا کرتے اور جب وہ حاضر نہ ہوتے تو میں انہیں بتایا کرتا تھا، اس زمانہ میں ہمیں غسان کے بادشاہ کی طرف سے ڈر تھا، اطلاع ملی تھی کہ وہ مدینہ پر چڑھائی کرنے کا ارادہ کر رہا ہے۔ چنانچہ ہم کو ہر وقت یہی خطرہ رہتا تھا، ایک دن اچانک میرے انصاری دوست نے دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا: کھولو، میں نے کہا: معلوم ہوتا ہے غسانی آ گئے، انہوں نے کہا: بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم معاملہ پیش آ گیا ہے، وہ یہ کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنی بیویوں سے علیحدگی اختیار کر لی ہے، میں نے کہا: حفصہ اور عائشہ رضی اللہ عنہما کی ناک غبار آلود ہو، چنانچہ میں نے اپنا کپڑا پہنا اور باہر نکل آیا، میں جب پہنچا تو نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلماپنے بالا خانہ میں تشریف رکھتے تھے جس پر سیڑھی سے چڑھا جاتا تھا، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکا ایک حبشی غلام (بلال بن رباح رضی اللہ عنہ) سیڑھی کے سرے پر موجود تھا، میں نے کہا: رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے عرض کرو عمر بن خطاب آیا ہے اور اندر آنے کی اجازت چاہتا ہے، پھر میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں پہنچ کر اپنا سارا واقعہ سنایا، جب میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی گفتگو پر پہنچا تو آپصلی اللہ علیہ وسلمکو ہنسی آ گئی۔ اس وقت رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکھجور کی ایک چٹائی پر تشریف رکھتے تھے، آپصلی اللہ علیہ وسلمکے جسم مبارک اور اس چٹائی کے درمیان کوئی اور چیز نہیں تھی، آپصلی اللہ علیہ وسلمکے سر کے نیچے ایک چمڑے کا تکیہ تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، پاؤں کی طرف کیکر کے پتوں کا ڈھیر تھا اور سر کی طرف مشکیزہ لٹک رہا تھا، میں نے چٹائی کے نشانات آپصلی اللہ علیہ وسلمکے پہلو پر دیکھے تو رو پڑا، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”کس بات پر رونے لگے ہو؟“میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! قیصر و کسریٰ کو دنیا کا ہر طرح کا آرام مل رہا ہے، آپ اللہ کے رسول ہیں (آپ پھر ایسی تنگ زندگی گزارتے ہیں)، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ ان کے حصہ میں دنیا ہے اور ہمارے حصہ میں آخرت ہے؟“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطلاق/حدیث: 944]
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated: I waited a whole year wanting to ask Umar ibn al-Khattab about a verse, but could not bring myself to ask him out of awe. Finally, he went on Hajj and I went with him. On the way back, he went aside to relieve himself among the arak trees. I waited until he finished, then walked with him and asked: "O Commander of the Faithful, who were the two wives of the Prophet (peace be upon him) referred to in the verse 'If you both repent to Allah, for your hearts have deviated'?" (al-Tahrim: 4) He said: "How strange of you, O Ibn Abbas! They were Aisha and Hafsah." Then he began narrating the full account, relating how the Prophet (peace be upon him) had secluded himself from his wives for a month, and how Umar had visited the Prophet and received assurance that he had not divorced his wives, and the Prophet smiled. Umar also described the rivalry between the Ansar women and the Quraysh women regarding their influence, and how the wives of the Prophet had begun to talk back to him, which Umar found alarming, until the verse of choice was revealed.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں ایک آیت کے متعلق سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھنے کے لیے ایک سال تک تردد میں رہا، ان کا اتنا ڈر غالب تھا کہ میں ان سے نہ پوچھ سکا، آخر وہ حج کے لیے گئے تو میں بھی ان کے ساتھ ہو لیا، واپسی میں جب ہم راستہ میں تھے تو رفع حاجت کے لیے وہ پیلو کے درختوں میں گئے، بیان کیا کہ میں ان کے انتظار میں کھڑا رہا، جب وہ فارغ ہو کر آئے تو پھر میں ان کے ساتھ چلا، اس وقت میں نے عرض کیا: اے امیر المومنین! امہات المومنین میں وہ کون سی دو عورتیں تھیں جنہوں نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے لیے متفقہ منصوبہ بنایا تھا؟ انہوں نے بتلایا کہ حفصہ اور عائشہ (رضی اللہ عنہما) تھیں، میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میں یہ سوال آپ سے کرنے کے لیے ایک سال سے ارادہ کر رہا تھا لیکن آپ کے رعب کی وجہ سے پوچھنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسا نہ کیا کرو، جس مسئلہ کے متعلق تمہارا خیال ہو کہ میرے پاس اس سلسلے میں کوئی علم ہے تو اسے پوچھ لیا کرو، اگر میرے پاس اس کا کوئی علم ہو گا تو تمہیں بتا دیا کروں گا، بیان کیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! جاہلیت میں ہماری نظر میں عورتوں کی کوئی عزت نہ تھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں وہ احکام نازل کیے جو نازل کرنے تھے اور ان کے حقوق مقرر کیے جو مقرر کرنے تھے۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے) بتلایا کہ ایک دن میں سوچ رہا تھا کہ میری بیوی نے مجھ سے کہا کہ بہتر ہے اگر تم اس معاملہ کو فلاں فلاں طرح کرو، میں نے کہا: تمہارا اس میں کیا کام؟ معاملہ مجھ سے متعلق ہے، تم اس میں دخل دینے والی کون ہوتی ہو؟ میری بیوی نے اس پر کہا: خطاب کے بیٹے! تمہارے اس طرز عمل پر حیرت ہے، تم اپنی باتوں کا جواب برداشت نہیں کر سکتے، تمہاری لڑکی (سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا) تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو بھی جواب دے دیتی ہیں، ایک دن تو انہوں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو ناراض بھی کر دیا تھا، یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور اپنی چادر اوڑھ کر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر پہنچے اور فرمایا: بیٹی! کیا تم رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی باتوں کا جواب دے دیتی ہو یہاں تک کہ ایک دن تم نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو دن بھر ناراض بھی رکھا ہے؟ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ہاں، اللہ کی قسم! ہم نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکو کبھی جواب دے دیتے ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کہا: جان لو میں تمہیں اللہ کی سزا اور اس کے رسولصلی اللہ علیہ وسلمکی ناراضگی سے ڈراتا ہوں، بیٹی! اس عورت کی وجہ سے دھوکہ میں نہ آ جانا جس نے نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکی محبت حاصل کر لی ہے، ان کا اشارہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا، کہا کہ پھر میں وہاں سے نکل کر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا کیونکہ وہ بھی میری رشتہ دار تھیں، میں نے ان سے بھی گفتگو کی، انہوں نے کہا: ابن خطاب! تعجب ہے کہ آپ ہر معاملہ میں دخل اندازی کرتے ہیں اور اب چاہتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلماور ان کی ازواج کے معاملات میں بھی دخل دیں، اللہ کی قسم! انہوں نے میری ایسی گرفت کی کہ میرے غصے کو ٹھنڈا کر کے رکھ دیا، میں ان کے گھر سے باہر نکل آیا۔ میرے ایک انصاری دوست تھے، جب میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی مجلس میں حاضر نہ ہوتا تو وہ مجلس کی تمام باتیں مجھے آ کر بتایا کرتے اور جب وہ حاضر نہ ہوتے تو میں انہیں بتایا کرتا تھا، اس زمانہ میں ہمیں غسان کے بادشاہ کی طرف سے ڈر تھا، اطلاع ملی تھی کہ وہ مدینہ پر چڑھائی کرنے کا ارادہ کر رہا ہے۔ چنانچہ ہم کو ہر وقت یہی خطرہ رہتا تھا، ایک دن اچانک میرے انصاری دوست نے دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا: کھولو، میں نے کہا: معلوم ہوتا ہے غسانی آ گئے، انہوں نے کہا: بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم معاملہ پیش آ گیا ہے، وہ یہ کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنی بیویوں سے علیحدگی اختیار کر لی ہے، میں نے کہا: حفصہ اور عائشہ رضی اللہ عنہما کی ناک غبار آلود ہو، چنانچہ میں نے اپنا کپڑا پہنا اور باہر نکل آیا، میں جب پہنچا تو نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلماپنے بالا خانہ میں تشریف رکھتے تھے جس پر سیڑھی سے چڑھا جاتا تھا، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکا ایک حبشی غلام (بلال بن رباح رضی اللہ عنہ) سیڑھی کے سرے پر موجود تھا، میں نے کہا: رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے عرض کرو عمر بن خطاب آیا ہے اور اندر آنے کی اجازت چاہتا ہے، پھر میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں پہنچ کر اپنا سارا واقعہ سنایا، جب میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی گفتگو پر پہنچا تو آپصلی اللہ علیہ وسلمکو ہنسی آ گئی۔ اس وقت رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکھجور کی ایک چٹائی پر تشریف رکھتے تھے، آپصلی اللہ علیہ وسلمکے جسم مبارک اور اس چٹائی کے درمیان کوئی اور چیز نہیں تھی، آپصلی اللہ علیہ وسلمکے سر کے نیچے ایک چمڑے کا تکیہ تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، پاؤں کی طرف کیکر کے پتوں کا ڈھیر تھا اور سر کی طرف مشکیزہ لٹک رہا تھا، میں نے چٹائی کے نشانات آپصلی اللہ علیہ وسلمکے پہلو پر دیکھے تو رو پڑا، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”کس بات پر رونے لگے ہو؟“میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! قیصر و کسریٰ کو دنیا کا ہر طرح کا آرام مل رہا ہے، آپ اللہ کے رسول ہیں (آپ پھر ایسی تنگ زندگی گزارتے ہیں)، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ ان کے حصہ میں دنیا ہے اور ہمارے حصہ میں آخرت ہے؟“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطلاق/حدیث: 944]