عربی (اصل)
942 صحيح حديث عَائِشَةَ عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَأْذِنُ فِي يَوْمِ الْمَرْأَةِ مِنَّا بَعْدَ أَنْ أُنْزِلَتْ هذِهِ الآيَةُ(تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكَ)فَقُلْتُ لَهَا مَا كُنْتِ تَقُولِينَ قَالَتْ: كُنْتُ أَقُولُ لَهُ: إِنْ كَانَ ذَاكَ إِلَيَّ فَإِنِّي لاَ أُرِيدُ، يَا رَسُولَ اللهِ أَنْ أُوثِرَ عَلَيْكَ أَحَدًا
انگریزی ترجمہ
Mu'adhah narrated that Aisha (may Allah be pleased with her) said: After the revelation of the verse "You may defer whom you will of them and receive whom you will" (al-Ahzab: 51), the Messenger of Allah (peace be upon him) would still seek permission from whichever wife whose turn it was if he wished to visit another. I asked her: "What did you used to say?" She said: "I would say to him: 'If the choice is mine, O Messenger of Allah, I would not prefer anyone over you.'"
اردو ترجمہ
معاذہ رحمہا اللہ روایت کرتی ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلماس آیت﴿ان میں سے آپ جس کو چاہیں اپنے سے دور رکھیں اور جن کو آپ نے الگ کر رکھا تھا ان میں سے کسی کو پھر طلب کر لیں تب بھی آپ پر کوئی گناہ نہیں ہے﴾[سورة الأحزاب: 51]کے نازل ہونے کے بعد بھی، اگر (ازواج مطہرات) میں سے کسی کی باری میں کسی دوسری بیوی کے پاس جانا چاہتے تو جس کی باری ہوتی اس سے اجازت لیتے تھے (معاذہ نے بیان کیا کہ) میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ ایسی صورت میں آپ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے کیا کہتی تھیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں تو یہ عرض کر دیتی تھی کہ یا رسول اللہ! اگر یہ اجازت آپ مجھ سے لے رہے ہیں تو میں اپنی باری کا کسی دوسرے پر ایثار نہیں کر سکتی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطلاق/حدیث: 942]
