عربی (اصل)
861 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: لَمَّا فَتَحَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، قَامَ فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ، وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ فَإِنَّهَا لاَ تَحِلُّ َلأحَدٍ كَانَ قَبْلِي، وَإِنَّهَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، وَإِنَّهَا لاَ تَحِلُّ َلأحَدٍ بَعْدِي، فَلاَ يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلاَ يُخْتَلَى شَوْكُهَا، وَلاَ تَحِلُّ سَاقِطَتُهَا إِلاَّ لِمُنْشِدٍ، وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ: إِمَّا أَنْ يُفْدَى وَإِمَّا أَنْ يُقِيدَ فَقَالَ الْعَبَّاسُ: إِلاَّ الإِذْخِرَ، فَإِنَّا نَجْعَلُهُ لِقُبُورِنَا وَبُيُوتِنَا؛ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِلاَّ الإِذْخِرَ فَقَامَ أَبُو شَاهٍ، رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ؛ فَقَالَ: اكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اكْتُبُوا َلأبِي شَاهٍ
انگریزی ترجمہ
Narrated Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him): "When Allah granted the Messenger of Allah (peace be upon him) the conquest of Makkah, he stood among the people, praised Allah and glorified Him, then said: 'Indeed, Allah withheld the elephant from Makkah and gave authority over it to His Messenger and the believers. It was not lawful for anyone before me, and it was made lawful for me only for a brief hour of the day. It will not be lawful for anyone after me. Its game is not to be frightened, its thorns are not to be cut, and its lost property is not to be picked up except by one who announces it publicly. Whoever has someone killed, he may choose the better of two options: either blood money or retaliation.' Al-Abbas said: 'Except the Idhkhir, for we use it for our graves and houses.' The Messenger of Allah (peace be upon him) said: 'Except the Idhkhir.' Then Abu Shah, a man from Yemen, stood up and said: 'Write it down for me, O Messenger of Allah.' The Messenger of Allah (peace be upon him) said: 'Write it down for Abu Shah.'"
اردو ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکو مکہ فتح کرا دیا تو آپ لوگوں کے سامنے کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا:”اللہ تعالیٰ نے ہاتھیوں کے لشکر کو مکہ سے روک دیا تھا لیکن اپنے رسول اور مسلمانوں کو اسے فتح کرا دیا، دیکھو! یہ مکہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوا تھا (یعنی وہاں لڑنا) اور میرے لیے صرف دن کے تھوڑے سے حصے میں درست ہوا، اب میرے بعد کسی کے لیے درست نہیں ہوگا، پس اس کے شکار نہ چھیڑے جائیں اور نہ اس کے کانٹے کاٹے جائیں، یہاں کی گری ہوئی چیز صرف اسی کے لیے حلال ہوگی جو اس کا اعلان کرے، جس کا کوئی آدمی قتل کیا گیا ہو اسے دو باتوں کا اختیار ہے: یا (قاتل سے) فدیہ (مال) لے لے یا جان کے بدلے جان لے۔“سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اذخر کاٹنے کی اجازت ہو کیونکہ ہم اسے اپنی قبروں اور گھروں میں استعمال کرتے ہیں، تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اچھا! اذخر کاٹنے کی اجازت ہے۔“پھر ابو شاہ یمن کے ایک صحابی نے کھڑے ہو کر کہا: یا رسول اللہ! میرے لیے یہ خطبہ لکھوا دیجیے، چنانچہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے صحابہ کو حکم فرمایا:”ابو شاہ کے لیے یہ خطبہ لکھ دو۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 861]
