عربی (اصل)
758 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ وَحُرُمِ الْحَجِّ، فَنَزَلْنَا سَرِفَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ َلاصْحَابِهِ: مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْىٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلاَ وَكَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ذَوِي قُوَّةٍ الْهَدْىُ، فَلَمْ تَكُنْ لَهُمْ عُمْرَةً، فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكِ قُلْتُ: سَمِعْتُكَ تَقُولُ َلأصْحَابِكَ مَا قُلْتَ فَمُنِعْتُ الْعُمْرَةَ، قَالَ: وَمَا شَأْنُكِ قُلْتُ: لاَ أُصَلِّي قَالَ: فَلاَ يَضُرَّكِ، أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ، كُتِبَ عَلَيْكِ مَا كُتِبَ عَلَيْهِنَّ، فَكُونِي فِي حَجَّتِكِ، عَسى اللهُ أَنْ يَرْزُقَكِهَا قَالَتْ: فَكُنْتُ، حَتَّى نَفَرْنَا مِنْ مِنًى، فَنَزَلْنَا الْمُحَصَّبَ، فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمنِ، فَقَالَ: اخْرُجْ بِأخْتِكَ الْحَرَمَ، فَلْتَهِلَّ بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ افْرُغَا مِنْ طَوَافِكمَا أَنْتَظِرْكُمَا ههُنَا فَأَتَيْنَا فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، فَقَالَ: فَرَغْتُمَا قُلْتُ: نَعَمْ فَنَادَى بِالرَّحِيلِ فِي أَصْحَابِهِ، فَارْتَحَلَ النَّاسُ وَمَنْ طَافَ بِاللَّيْلِ قَبْلَ صَلاَةِ الصُّبْحِ، ثُمَّ خَرَجَ مُوَجِّهًا إِلَى الْمَدِينَةِ
انگریزی ترجمہ
Narrated Aishah (may Allah be pleased with her): "We went out declaring Ihram for Hajj during the months of Hajj and in the sacred precincts of Hajj. We stopped at Sarif, and the Prophet (peace be upon him) said to his Companions: 'Whoever does not have a sacrificial animal and wishes to make it an Umrah, let him do so. And whoever has a sacrificial animal, he should not.' The Prophet (peace be upon him) and some of his strong Companions had sacrificial animals with them, so it was not possible for them to convert to Umrah. The Prophet (peace be upon him) came to me while I was crying, and he said: 'What makes you cry?' I said: 'I heard what you said to your Companions, and I have been prevented from performing Umrah.' He said: 'What is the matter with you?' I said: 'I am not praying (i.e., menstruating).' He said: 'That will not harm you. You are one of the daughters of Adam, and what has been decreed for them has been decreed for you. Continue with your Hajj, and perhaps Allah will grant it to you.' She said: So I continued until we departed from Mina and camped at al-Muhassab. He called Abdur-Rahman and said: 'Take your sister outside the Sacred Precinct and let her assume Ihram for Umrah. Then when you both finish your Tawaf, I shall wait for you here.' We came back in the middle of the night, and he said: 'Have you finished?' I said: 'Yes.' He called for departure among his Companions, and the people set out. He and those who had performed Tawaf by night before the Fajr prayer departed, heading toward Madinah."
اردو ترجمہ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ حج کے مہینوں اور آداب میں ہم حج کا احرام باندھ کر مدینہ سے چلے اور مقام سرف میں پڑاؤ کیا، نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنے اصحاب سے فرمایا:”جس کے ساتھ قربانی نہ ہو اور وہ چاہے کہ اپنے حج کے احرام کو عمرہ سے بدل دے تو وہ ایسا کر سکتا ہے لیکن جس کے ساتھ قربانی ہے وہ ایسا نہیں کر سکتا۔“نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلماور آپ کے بعض مقدور (استطاعت) والوں کے ساتھ قربانی تھی اس لیے ان کا (احرام صرف) عمرہ کا نہیں رہا، پھر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلممیرے یہاں تشریف لائے تو میں رو رہی تھی، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے دریافت فرمایا:”رو کیوں رہی ہو؟“میں نے کہا: آپ نے اپنے اصحاب سے جو کچھ فرمایا وہ میں سن رہی تھی اب تو میرا عمرہ ہو گیا، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے پوچھا:”کیا بات ہوئی؟“میں نے کہا کہ نماز نہیں پڑھ سکتی (حیض کی وجہ)، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے اس پر فرمایا:”کوئی حرج نہیں، تو بھی آدم کی بیٹیوں میں سے ایک ہے اور جو ان سب کے مقدر میں لکھا ہے وہی تمہارا بھی مقدر ہے، اب حج کا احرام باندھ لے شاید اللہ تعالیٰ تمہیں عمرہ بھی نصیب کرے۔“(سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ) میں نے حج کا احرام باندھ لیا پھر جب ہم (حج سے فارغ ہو کر اور) منیٰ سے نکل کر محصب میں اترے تو نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے عبدالرحمن رضی اللہ عنہما کو بلایا اور ان سے کہا:”اپنی بہن کو حدِ حرم سے باہر لے جا (تنعیم) تاکہ وہ وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ لیں، پھر طواف و سعی کرو، ہم تمہارا انتظار یہیں کریں گے۔“ہم آدھی رات کو آپ کی خدمت میں پہنچے تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے پوچھا:”کیا فارغ ہو گئے؟“میں نے کہا: ہاں، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے اس کے بعد اپنے اصحاب میں کوچ کا اعلان کر دیا، بیت اللہ کا طوافِ وداع کرنے والے لوگ صبح کی نماز سے پہلے ہی روانہ ہو گئے اور مدینہ کی طرف چل دیے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 758]
