عربی (اصل)
715 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَبْدَ اللهِ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ فَقُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: فَلاَ تَفْعَلْ، صُمْ وَأَفْطِرْ، وَقُمْ وَنَمْ، فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ بِحَسْبِكَ أَنْ تَصُومَ كُلَّ شَهْرٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنَّ لَكَ بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ أَمْثَالِهَا، فَإِنَّ ذلِكَ صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَيَّ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً قَالَ: فَصُمْ صِيَامَ نَبِيِّ اللهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ، وَلاَ تَزِدْ عَلَيْهِ قُلْتُ: وَمَا كَانَ صِيَامُ نَبِيِّ اللهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَالَ: نِصْفُ الدَّهْرِ فَكَانَ عَبْدُ اللهِ يَقُولُ بَعْدَمَا كَبِرَ: يَا لَيْتَنِي قَبِلْتُ رُخْصَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
انگریزی ترجمہ
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Messenger of Allah (peace be upon him) said to me: "O Abdullah, have I not been told that you fast during the day and pray during the night?" I said: "Yes, O Messenger of Allah." He said: "Do not do that. Fast and break your fast, pray and sleep. For your body has a right over you, your eyes have a right over you, your wife has a right over you, and your guest has a right over you."
اردو ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”عبداللہ! کیا یہ خبر صحیح ہے کہ تم دن میں تو روزہ رکھتے ہو اور ساری رات نماز پڑھتے ہو؟“میں نے عرض کی: صحیح ہے یا رسول اللہ! آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ایسا نہ کر، روزہ بھی رکھ اور بے روزہ کے بھی رہ، نماز بھی پڑھ اور سوؤ بھی، کیونکہ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے اور تم سے ملاقات کرنے والوں کا بھی تم پر حق ہے، بس یہی کافی ہے کہ ہر مہینہ میں تین دن روزہ رکھ لیا کرو، کیونکہ ہر نیکی کا بدلہ دس گنا ملے گا اور اس طرح یہ ساری عمر کا روزہ ہو جائے گا۔“لیکن میں نے اپنے پر سختی چاہی تو مجھ پر سختی کر دی گئی، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں اپنے میں قوت پاتا ہوں، اس پر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”پھر اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کا روزہ رکھ اور اس سے آگے نہ بڑھ۔“میں نے پوچھا: اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کا روزہ کیا تھا؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن بے روزہ کے رہا کرتے تھے۔“بعد میں جب ضعیف ہو گئے تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: کاش میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی دی ہوئی رخصت مان لیتا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصيام/حدیث: 715]
