عربی (اصل)
640 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَعَثَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رضي الله عنه، إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنَ الْيَمَنِ بِذُهَيْبَةٍ فِي أَدِيمٍ مَقْرُوظٍ؛ لَمْ تُحَصَّلْ مِنْ تُرَابِهَا، قَالَ: فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ: بَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ، وَأَقْرعَ بْنِ حَابِسٍ، وَزَيْدِ الْخَيْلِ، وَالرَّابِعُ إِمَّا عَلْقَمَةُ وَإِمَّا عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: كُنَّا نَحْنُ أَحَقَّ بِهذَا مِنْ هؤُلاَءِ قَالَ: فَبَلَغَ ذلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَلاَ تَأْمَنُونِي وَأَنَا أَمِينُ مَنْ فِي السَّمَاءِ، يَأْتِينِي خَبَرُ السَّمَاءِ صَبَاحًا وَمَسَاءً قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ، مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ، نَاشِزُ الْجَبْهَةِ، كَثُّ اللِّحْيَةِ، مَحْلُوقُ الرَّأْسِ، مُشَمَّرُ الإِزَارِ؛ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ اتَّقِ اللهَ قَالَ: وَيْلَكَ أَوَلَسْتُ أَحَقُّ أَهْلِ الأَرْضِ أَنْ يَتَّقِيَ اللهَ قَالَ: ثُمَّ وَلَّى الرَجُلُ قَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلاَ أَضْرِبُ عُنُقَهُ قَالَ: لا، لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ يُصَلِّي فَقَالَ خَالِدٌ: وَكَمْ مِنْ مُصَلٍّ يَقُولُ بِلِسَانِهِ مَا لَيْسَ فِي قَلْبِهِ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَمْ أُومَرْ أَنْ أَنْقُبَ قُلُوبَ النَّاسِ، وَلاَ أَشُقَّ بُطُونَهُمْ قَالَ: ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْهِ، وَهُوَ مُقَفٍّ، فَقَالَ: إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِي هذَا قَوْمٌ يَتْلُونَ كِتَابَ اللهِ رَطْبًا، لاَ يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ وَأَظُنُّهُ قَالَ: لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُودَ
انگریزی ترجمہ
Narrated Abu Sa'id al-Khudri: Ali ibn Abi Talib sent from Yemen to the Messenger of Allah (peace be upon him) a piece of gold in tanned leather. He divided it among four people. A man said: "O Messenger of Allah, fear Allah." He said: "Woe to you! Am I not the most deserving of the people of the earth to fear Allah?" Khalid ibn al-Walid said: "O Messenger of Allah, shall I not strike him?" He said: "No, perhaps he prays." Khalid said: "How many who pray say with their tongues what is not in their hearts?" The Messenger of Allah said: "I was not commanded to open up people's hearts."
اردو ترجمہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یمن سے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس بیری کے پتوں سے دباغت دیے ہوئے چمڑے کے ایک تھیلے میں سونے کے چند ڈلے بھیجے، ان سے (کان کی) مٹی بھی ابھی صاف نہیں کی گئی تھی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے وہ سونا چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا: عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس، زید بن خیل اور چوتھے علقمہ تھے یا عامر بن طفیل۔ آپ کے اصحاب میں سے ایک صاحب نے اس پر کہا کہ ان لوگوں سے زیادہ ہم اس سونے کے مستحق تھے۔ راوی نے بیان کیا کہ جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو معلوم ہوا تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تم مجھ پر اعتبار نہیں کرتے؟ حالانکہ اس اللہ نے مجھ پر اعتبار کیا ہے جو آسمان پر ہے اور اس کی وحی میرے پاس صبح و شام آتی ہے۔“راوی نے بیان کیا کہ پھر ایک شخص جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں، دونوں رخسار پھولے ہوئے تھے، پیشانی بھی ابھری ہوئی تھی، گھنی داڑھی اور سر منڈا ہوا تھا اور وہ تہبند اٹھائے ہوئے تھا، کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! اللہ سے ڈریے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”افسوس تجھ پر! کیا میں اس روئے زمین پر اللہ سے ڈرنے کا سب سے زیادہ مستحق نہیں ہوں؟“راوی نے بیان کیا: پھر وہ شخص چلا گیا۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں کیوں نہ اس شخص کی گردن مار دوں؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”نہیں، شاید وہ نماز پڑھتا ہو۔“اس پر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ بہت سے نماز پڑھنے والے ایسے ہیں جو زبان سے اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں اور ان کے دل میں وہ نہیں ہوتا۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”مجھے اس کا حکم نہیں ہوا ہے کہ لوگوں کے دلوں کی کھوج لگاؤں اور نہ اس کا حکم ہوا ہے کہ ان کے پیٹ چاک کروں۔“راوی نے کہا: پھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے اس (منافق) کی طرف دیکھا تو وہ پیٹھ پھیر کر جا رہا تھا، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اس کی نسل سے ایک ایسی قوم نکلے گی جو کتاب اللہ کی تلاوت بڑی خوش الحانی کے ساتھ کرے گی لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی۔ دین سے وہ لوگ اس طرح نکل چکے ہوں گے جیسے تیر جانور کے پار نکل جاتا ہے۔“(سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ) اور میرا خیال ہے کہ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے یہ بھی فرمایا:”اگر میں ان کے دور میں ہوا تو ثمود کی قوم کی طرح ان کو بالکل قتل کر ڈالوں گا۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 640]
