عربی (اصل)
281 صحيح حديث أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ، وَرَأَيْتُ بِلاَلاً أَخَذَ وَضُوءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَأَيْتُ النَّاسَ يَبْتَدِرُونَ ذَاكَ الْوَضوءَ، فَمَنْ أَصَابَ مِنْهُ شَيْئًا تَمَسَّحَ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يُصِبْ مِنْهُ شَيْئًا أَخَذَ مِنْ بَلَلِ يَدِ صَاحِبِه، ثُمَّ رَأَيْتُ بِلاَلاً أَخَذَ عَنَزَةً فَرَكَزَهَا، وَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مُشَمِّرًا، صَلَّى إِلَى الْعَنَزَةِ بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ، وَرَأَيْتُ النَّاسَ وَالدَّوَابَّ يَمُرُّونَ مِنْ بَيْنَ يَدَيِ الْعَنَزَةِ
انگریزی ترجمہ
Narrated Abu Juhayfah: I saw the Messenger of Allah (peace be upon him) in a red leather tent. I saw Bilal take the ablution water of the Messenger of Allah, and I saw the people competing to get some of that water. Whoever got some wiped it over himself, and whoever did not get any took some of the moisture from his companion's hand. Then I saw Bilal plant a stick (anazah) in front of the Prophet (peace be upon him), who came out wearing a red garment and led the people in prayer in the direction of the stick. I saw people and animals passing beyond the stick.
اردو ترجمہ
سیدنا ابو جحیفہ وہب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو ایک سرخ چمڑے کے خیمے میں دیکھا اور میں نے یہ بھی دیکھا کہ بلال رضی اللہ عنہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکو وضو کرا رہے ہیں اور ہر شخص آپ کے وضو کا پانی حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے، اگر کسی کو تھوڑا سا بھی پانی مل جاتا تو وہ اسے اپنے اوپر مل لیتا اور اگر کوئی پانی نہ پا سکتا تو اپنے ساتھی کے ہاتھ کی تری ہی حاصل کرنے کی کوشش کرتا، پھر میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی ایک برچھی اٹھائی جس کے نیچے لوہے کا پھل لگا ہوا تھا اور اسے انہوں نے (بطور سترہ) گاڑ دیا، نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم(ڈیرے میں سے) ایک سرخ پوشاک پہنے ہوئے، تہ بند (پنڈلیوں تک) اٹھائے ہوئے باہر تشریف لائے اور برچھی کی طرف منہ کر کے لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی، میں نے دیکھا کہ آدمی اور جانور برچھی کے پرے سے گزر رہے تھے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 281]
