عربی (اصل)
233 صحيح حديث عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاكٍ، فَصَلَّى جَالِسًا وَصَلَّى وَرَاءَهُ قَوْمٌ قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا؛ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا
انگریزی ترجمہ
Narrated Aisha, Mother of the Believers: The Messenger of Allah (peace be upon him) prayed in his house during his illness, sitting, while people prayed behind him standing. He gestured to them to sit down. When he finished, he said: "The imam is appointed to be followed. When he bows, bow. When he rises, rise. And when he prays sitting, pray sitting."
اردو ترجمہ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے ایک مرتبہ بیماری کی حالت میں میرے ہی گھر میں نماز پڑھی، آپصلی اللہ علیہ وسلمبیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے تھے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے ان کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرمایا:”امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، اس لیے جب وہ رکوع میں جائے تو تم بھی رکوع میں جاؤ اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ«سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ»”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی“کہے تو تم«رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ»”اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 233]
