عربی (اصل)
1770 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه، أَنَّ رِجَالاً مِنَ الْمُنَافِقِينَ، عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْغَزْوِ، تَخَلَّفُوا عَنْهُ، وَفَرِحُوا بِمَقْعَدِهِمْ خِلاَفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اعْتَذَرُوا إِلَيْهِ، وَحَلَفُوا، وَأَحَبُّوا أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَنَزَلَتْ(لاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ)الآية
انگریزی ترجمہ
Narrated Abu Sa'id al-Khudri: Some men among the hypocrites during the time of the Messenger of Allah (peace be upon him) — when the Messenger of Allah (peace be upon him) went out for battle, they would stay behind and be pleased at sitting behind the Messenger of Allah (peace be upon him). When the Messenger of Allah (peace be upon him) returned, they would make excuses and swear oaths, wanting to be praised for what they did not do. Then the verse was revealed: "Do not think that those who rejoice in what they have done..." the verse.
اردو ترجمہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے زمانہ میں چند منافقین ایسے تھے کہ جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمجہاد کے لیے تشریف لے جاتے تو یہ مدینہ میں پیچھے رہ جاتے اور پیچھے رہ جانے پر بہت خوش ہوا کرتے تھے، لیکن جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمواپس آتے تو عذر بیان کرتے اور قسمیں کھا لیتے، بلکہ انہیں ایسے کام پر تعریف کروانا پسند تھا جسے انہوں نے کیا نہ ہوتا اور وہ اپنی باتوں سے اپنی بات بنانا چاہتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اسی پر یہ آیت نازل فرمائی:﴿لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِنَ الْعَذَابِ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾[سورة آل عمران: 188]”وہ لوگ جو اپنے کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو انہوں نے نہیں کیا اس پر بھی ان کی تعریفیں کی جائیں، تو انہیں عذاب سے چھٹکارہ میں نہ سمجھو، ان کے لیے تو درد ناک عذاب ہے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1770]
