عربی (اصل)
1769 صحيح حديث زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رضي الله عنه، قَالَ: لَمَّا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُحُدٍ، رَجَعَ ناسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَتْ فِرْقَةٌ: نَقْتُلُهُمْ وَقَالَتْ فِرْقَةٌ: لاَ نَقْتُلُهُمْ فَنَزَلَتْ(فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ)
انگریزی ترجمہ
Narrated Zayd ibn Thabit: When the Prophet (peace be upon him) set out for Uhud, some of his companions turned back. One group said: "We should kill them," and another group said: "We should not kill them." Then the verse was revealed: "What is the matter with you that you are two groups regarding the hypocrites?"
اردو ترجمہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمجنگِ احد کے لیے نکلے تو جو لوگ آپصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ تھے ان میں سے کچھ لوگ واپس آ گئے (یہ منافقین تھے)، پھر بعض نے تو یہ کہا کہ ہم چل کر انہیں قتل کر دیں گے اور ایک جماعت نے کہا کہ قتل نہ کرنا چاہیے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی:﴿فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا أَتُرِيدُونَ أَنْ تَهْدُوا مَنْ أَضَلَّ اللَّهُ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا﴾[سورة النساء: 88]”تمہیں کیا ہو گیا کہ منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو رہے ہو۔ انہیں تو ان کے اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اوندھا کر دیا ہے۔ اب کیا تم یہ منصوبے باندھ رہے ہو کہ اللہ کے گمراہ کیے ہوؤں کو تم راہ راست پر لا کھڑا کرو۔ جسے اللہ راہ بھلا دے تو ہرگز اس کے لیے کوئی راہ نہ پائے گا۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1769]
