عربی (اصل)
1400 صحيح حديث عَائِشَةَ رضي الله عنها، قَالَتْ: دَخَلَ رَهْطٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ فَفَهِمْتُهَا، فَقُلْتُ: عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَهْلاً، يَا عَائِشَةُ فَإِنَّ اللهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الأَمْرِ كُلِّهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَوَ لَمْ تَسْمَعْ مَا قَالوا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقَدْ قُلْتُ: وَعَلَيْكُمْ
انگریزی ترجمہ
Narrated Aisha: A group of Jews entered upon the Messenger of Allah (peace be upon him) and said: 'As-samu alayka' (death be upon you). I understood it and said: 'And upon you be death and curse.' The Messenger of Allah (peace be upon him) said: 'Gently, O Aisha, for Allah loves gentleness in all matters.' I said: 'O Messenger of Allah, did you not hear what they said?' The Messenger of Allah (peace be upon him) said: 'I have already said: And upon you.'"
اردو ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ کچھ یہودی رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا:«السَّامُ عَلَيْكَ»”(تمہیں موت آئے)“، میں ان کی بات سمجھ گئی اور میں نے جواب دیا:«عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ»آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”عائشہ! صبر سے کام لو کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام معاملات میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔“میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے نہیں سنا کہ انہوں نے کیا کہا تھا؟ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میں نے ان کا جواب دے دیا تھا کہ«وَعَلَيْكُمْ»(اور تمہیں بھی)۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1400]
