عربی (اصل)
1242 صحيح حديث أَنَسِ رضي الله عنه، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْوَامًا مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ إِلَى بَنِي عَامِرٍ، فِي سَبْعِينَ فَلَمَّا قَدِمُوا، قَالَ لَهُمْ خَالِي: أَتَقَدَّمُكُمْ، فَإِنْ أَمَّنُونِي حَتَّى أُبَلِّغَهُمْ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلاَّ كُنْتُمْ مِنِّي قَرِيبًا فَتَقَدَّمَ، فَأَمَّنُوهُ فَبَيْنَمَا يُحَدِّثُهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ أَوْمَئُوا إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ، فَطَعَنَهُ فَأَنْفَذَهُ، فَقَالَ: اللهُ أَكْبَرُ فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ثُمَّ مَالوا عَلَى بَقِيَّةِ أَصْحَابِهِ فَقَتَلُوهُمْ، إِلاَّ رَجُلٌ أَعْرَجُ صَعِدَ الْجَبَلَ قَالَ هَمَّامٌ(أَحَدُ رِجَالِ السَّنَدِ)فَأُرَاهُ آخَرَ مَعَهُ؛ فَأَخْبَرَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدْ لَقُوا رَبَّهُمْ فَرَضِيَ عَنْهُمْ وَأَرْضَاهُمْ فَكُنَّا نَقْرَأُ أَنْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا، أَنْ قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا، فَرَضِيَ عَنَّا، وَأَرْضَانَا ثُمَّ نُسِخَ بَعْدُ فَدَعَا عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، عَلَى رِعْلٍ، وَذَكْوَانَ، وَبَنِي لِحْيَانَ، وَبَنِي عُصَيَّةَ الَّذِينَ عَصَوُا اللهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
انگریزی ترجمہ
Sa'd ibn Abi Waqqas (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah (peace be upon him) said to Ali: "You are to me as Harun was to Musa, except that there is no prophet after me."
اردو ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے بنو سلیم کے ستر آدمی (جو قاری تھے) بنو عامر کے یہاں بھیجے۔ جب یہ سب حضرات (بئر معونہ) پر پہنچے تو میرے ماموں حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ نے کہا:”میں (بنو عامر کے یہاں) آگے جاتا ہوں، اگر مجھے انہوں نے اس بات کا امن دے دیا کہ میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی باتیں ان تک پہنچاؤں تو بہتر، ورنہ تم لوگ میرے قریب تو ہو ہی۔“چنانچہ وہ ان کے یہاں گئے اور انہوں نے امن بھی دے دیا۔ ابھی وہ قبیلہ کے لوگوں کو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی باتیں سنا ہی رہے تھے کہ قبیلہ والوں نے اپنے ایک آدمی (عامر بن طفیل) کو اشارہ کیا اور اس نے آپ رضی اللہ عنہ کے برچھا پیوست کر دیا جو آر پار ہو گیا۔ اس وقت ان کی زبان سے نکلا:«اللهُ أَكْبَرُ فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ»”اللہ اکبر، میں کامیاب ہو گیا، کعبہ کے رب کی قسم!“اس کے بعد قبیلہ والے حرام رضی اللہ عنہ کے دوسرے ساتھیوں کی طرف (جو ستر کی تعداد میں تھے) بڑھے اور سب کو قتل کر دیا۔ البتہ ایک صاحب جو لنگڑے تھے، پہاڑ پر چڑھ گئے۔ ہمام (راوی حدیث) نے بیان کیا: میں سمجھتا ہوں کہ ایک صاحب اور ان کے ساتھی (پہاڑ پر چڑھے تھے)۔ اس کے بعد جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکو خبر دی کہ آپ کے ساتھی اللہ تعالیٰ سے جا ملے ہیں، پس اللہ خود بھی ان سے خوش ہے اور انہیں بھی خوش کر دیا ہے۔ اس کے بعد ہم (قرآن کی دوسری آیتوں کے ساتھ یہ آیت بھی) پڑھتے تھے:«أَنْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنْ قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا، فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا»”ہماری قوم کے لوگوں کو یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے آ ملے ہیں، پس ہمارا رب خود بھی خوش ہے اور ہمیں بھی خوش کر دیا ہے۔“اس کے بعد یہ آیت منسوخ ہو گئی، نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے چالیس دن تک صبح کی نماز میں قبیلہ رعل، ذکوان، بنی لحیان اور بنی عصیہ کے لیے بددعا کی تھی جنہوں نے اللہ اور اس کے رسولصلی اللہ علیہ وسلمکی نافرمانی کی تھی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الإمارة/حدیث: 1242]
