عربی (اصل)
أناسَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، أَنَّأَبَا نَضْرَةَحَدَّثَهُمْ، قَالَ: حَدَّثَنِيمَنْشَهِدَ خُطْبَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُإِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ، وَإِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ، أَلا لا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى أَعْجَمِيٍّ، وَلا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ، وَلا أَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ، وَلا أَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ إِلا بِتَقْوَى اللَّهِ، أَلا هَلْ بَلَّغْتُ؟"، قَالُوا: بَلَّغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ"، ثُمَّ قَالَ:" أَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟"، قَالُوا: شَهْرٌ حَرَامٌ، قَالَ:" فَأَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟"، قَالُوا: يَوْمٌ حَرَامٌ، قَالَ:" فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟"، قَالُوا: بَلَدٌ حَرَامٌ، قَالَ:" فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ، قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: وَأَعْرَاضَكُمْ، عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلا هَلْ بَلَّغْتُ؟"، قَالُوا: بَلَّغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ".
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Nothing is more honored in the sight of Allah than supplication."
اردو ترجمہ
ابونضرہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے اس نے حدیث بیان کی جو منیٰ میں نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکے خطبے میں حاضر ہوا تھا، اس نے کہا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمایام تشریق کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا:”اے لوگو! بے شک تمہارا رب ایک اور بے شک تمہارا باپ ایک ہے۔ سنو! کسی عربی کی کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں اور نہ کسی عجمی کی، کسی عربی پر اور نہ کسی سیاہ کی سرخ پر اور نہ کسی سرخ کی سیاہ پر، سوائے اللہ کے تقوے کے، دیکھو! کیا میں نے پہنچا دیا؟“انہوں نے کہا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے پہنچا دیا۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”لازم ہے جو موجود ہے اسے پہنچا دے جو غائب ہے۔“پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”یہ مہینہ کون سا ہے؟“انہوں نے کہا کہ حرمت والا مہینہ ہے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”یہ دن کون سا ہے؟“انہوں نے کہا کہ حرمت والا دن ہے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”یہ شہر کون سا ہے؟“انہوں نے کہا کہ حرمت والا شہر ہے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”بے شک تمہارے خون اور تمہارے مال (راوی نے کہا کہ) اور میرا خیال ہے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: اور تمہاری عزتیں تمہارے لیے قابل احترام ہیں، جس طرح تمہارے اس شہر میں، تمہارے اس مہینے میں تمہارے اس دن کا احترام ہے۔ سنو! کیا میں نے پہنچا دیا؟“انہوں نے کہا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے پہنچا دیا ہے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تو لازم ہے کہ جو موجود ہے، اسے پہنچا دے جو حاضر نہیں ہے۔“[مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 254]
