عربی (اصل)
عَنْمَعْمَرٍ، عَنِالزُّهْرِيِّ، عَنْسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَامَ أَعْرَابِيٌّ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلامًا أَسْوَدَ وَهُوَ حِينَئِذٍ ذَلِكَ مُنْكِرٌ، لَمْ يَقُلْ ذَلِكَ إِلا لِيَنْتَفِيَ مِنْهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ لَكَ إِبِلٌ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَمَا أَلْوَانُهَا؟"، قَالَ: هِيَ حُمْرٌ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ؟"، قَالَ: نَعَمْ، فِيهَا ذُودٌ أَوْرَقُ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّى كَانَ ذَلِكَ؟"، قَالَ: لا أَدْرِي إِلا أَنْ يَكُونَ نَزَعَهَا عِرْقٌ، قَالَ:" وَهَذَا لَعَلَّهُ يَكُونُ نَزَعَهُ عِرْقٌ"، فَأَبَى أَنْ يُرَخِّصَ فِي الانْتِفَاءِ مِنْهُ.
انگریزی ترجمہ
Ibn Umar (may Allah be pleased with them both) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "If a man says to his brother 'O disbeliever,' one of them deserves it. If the one addressed is as described, then so be it; otherwise, the accusation returns to the one who said it."
اردو ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ اسی دوران ہم رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس تھے، جب بنو فزارہ کا ایک بدوی آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسولصلی اللہ علیہ وسلم! بے شک میری بیوی نے سیاہ رنگ کا بچہ پیدا کیا ہے اور وہ اس وقت اس کا انکار کرنے والا تھا، اس نے یہ صرف اپنے سے اس (بچے) کی نفی کرنے کے لیے کہا تھا تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”کیا تیرے پاس اونٹ ہیں؟“اس نے کہا: ہاں۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ان کا رنگ کیا ہے؟“اس نے کہا: سرخ۔ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے اسے فرمایا:”کیا ان میں کوئی گندمی بھی ہیں؟“اس نے کہا: ہاں۔ ان میں خاکستری اونٹ بھی ہیں تو نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے اسے فرمایا:”یہ کہاں سے آگئے؟“اس نے کہا: مجھے نہیں معلوم، الا یہ کہ کسی رگ نے انہیں کھینچا ہو۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اور اس (بچے) کو بھی شاید کسی رگ نے کھینچا ہو۔“آپصلی اللہ علیہ وسلمنے انکار کر دیا کہ اسے اس کی نفی کی رخصت دیں۔[مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 235]
