عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ، يَقُولُ كَانَ آخِرَ مَا عَهِدَ إِلَىَّ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حِينَ أَمَّرَنِي عَلَى الطَّائِفِ قَالَ لِي " يَا عُثْمَانُ تَجَاوَزْ فِي الصَّلاَةِ وَاقْدِرِ النَّاسَ بِأَضْعَفِهِمْ فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ وَالصَّغِيرَ وَالسَّقِيمَ وَالْبَعِيدَ وَذَا الْحَاجَةِ " .
انگریزی ترجمہ
It was narrated that Mutarrif bin ‘Abdullah bin Shikhkhir said:“I heard Hadrat 'Uthman bin Abul-‘As say: “The last thing that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) enjoined on me when he appointed me governor of Ta’if was that he said: “O Hadrat 'Uthman! Be tolerable in prayer and estimate the people based upon the weakest among them, for among them are the elderly, the young, the sick, those who live far from the mosque, and those who have pressing needs.”
اردو ترجمہ
مطرف بن عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے سنا کہ جب نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ کو طائف کا امیر بنایا، تو آپ نے میرے لیے آخری نصیحت یہ فرمائی: حضرت عثمان! نماز ہلکی پڑھنا، اور لوگوں ( عام نمازیوں ) کو اس شخص کے برابر سمجھنا جو ان میں سب سے زیادہ کمزور ہو، اس لیے کہ لوگوں میں بوڑھے، بچے، بیمار، دور سے آئے ہوئے اور ضرورت مند سبھی قسم کے لوگ ہوتے ہیں ۔
