عربی (اصل)
أَخْبَرَنَامُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، أَنَّابْنَ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: وَثَنَىابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ: ثنىأَبُو الْمُعْتَمِرِ بْنِ عَمْروٍ، عَنِابْنِ خَلْدَةَ الزُّرَقِيِّوَكَانَ قَاضِيَ الْمَدِينَةِ، قَالَ: جِئْنَاأَبَا هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي صَاحِب لَنَا أَفْلَسَ، فَقَالَ: هَذَا الَّذِي قَضَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا رَجُلٌ مَاتَ أَوْ أَفْلَسَ فَصَاحِبُ الْمَتَاعِ أَحَقُّ بِمَتَاعِهِ إِذَا وَجَدَهُ بِعَيْنِهِ".
انگریزی ترجمہ
Abu Khaldah al-Zuraqi narrated: We came to Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) regarding a companion of ours who had become bankrupt. He said: This is what the Messenger of Allah (peace be upon him) ruled: "Whoever dies or becomes bankrupt, the owner of the goods has more right to his goods if he finds them intact."
اردو ترجمہ
ابو خلدہ زرقی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس اپنے ایک ساتھی کا مقدمہ لے کر حاضر ہوئے، جو مفلس ہو چکا تھا، تو انہوں نے فرمایا:”ایسے ہی ایک مقدمہ میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے یہ فیصلہ کیا تھا: جو فوت ہو جائے یا مفلس ہو جائے، تو سامان والا آدمی اپنے سامان کا زیادہ حقدار ہے، بشرطیکہ وہ سامان بعینہ اسی کا ہو۔“[المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 634]
