عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ «يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ قَوْمٌ أَرَقُّ مِنْكُمْ قُلُوبًا» فَقَدِمَ الْأَشْعَرِيُّونَ وَفِيهِمْ أَبُو مُوسَى فَكَانُوا أَوَّلَ مَنْ أَظْهَرَ الْمُصَافَحَةَ فِي الْإِسْلَامِ فَجَعَلُوا حِينَ دَنَوَا الْمَدِينَةَ يَرْتَجِزُونَ وَيَقُولُونَ
انگریزی ترجمہ
Hadrat Anas ibn Malik (may Allah be well pleased with him) narrated that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "A people are coming to you who are more tender-hearted than you." Then the Ash'aris arrived, among them Abu Musa, and they were the first to introduce the handshake in Islam. When they drew near Madinah, they began chanting rajaz poetry, saying: "Tomorrow we shall meet the beloved ones, Muhammad and his Companions."
اردو ترجمہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «ایک قوم تمہارے پاس آنے والی ہے جو تم سے زیادہ نرم دل ہے۔» پھر اشعری آئے جن میں ابوموسیٰ بھی تھے اور وہ اسلام میں مصافحہ کا رواج شروع کرنے والے پہلے لوگ تھے۔ جب وہ مدینہ کے قریب پہنچے تو رجز پڑھنے لگے اور کہنے لگے: کل ہم محبوبوں سے ملیں گے، محمد اور آپ کے صحابہ سے۔
