عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَا السَّمْحِ حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ «إِنَّ الْمُؤْمِنَ فِي قَبْرِهِ لَفِي رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ وَيُرْحَبُ لَهُ قَبْرُهُ سَبْعُونَ ذِرَاعًا وَيُنَوَّرُ لَهُ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ أَتَدْرُونَ فِيمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى} أَتَدْرُونَ مَا الْمَعِيشَةُ الضَّنْكَةُ؟ » قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ «عَذَابُ الْكَافِرِ فِي قَبْرِهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ يُسَلَّطَ عَلَيْهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ تِنِّينًا أَتَدْرُونَ مَا التِّنِّينُ؟ سَبْعُونَ حَيَّةً لِكُلِّ حَيَّةٍ سَبْعُ رُءُوسٍ يِلْسَعُونَهُ وَيَخْدِشُونَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Hurairah (may Allah be well pleased with him) narrated from the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) who stated: "Indeed, the believer in his grave is in a green garden, and his grave is expanded for him seventy cubits, and it is illuminated for him like the moon on the night of the full moon. Do you know about what this verse was revealed: 'Indeed for him is a straitened life, and We shall gather him on the Day of Resurrection blind.' Do you know what the straitened life is?" They said: "Allah and His Messenger know best." He stated: "The punishment of the disbeliever in his grave. By the One in Whose Hand is my soul, ninety-nine serpents are set upon him. Do you know what a serpent is? Seventy snakes, each having seven heads, biting and scratching him until the Day of Resurrection."
اردو ترجمہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "بے شک مومن اپنی قبر میں سبز باغ میں ہوتا ہے، اس کی قبر ستر ہاتھ وسیع کی جاتی ہے اور چودہویں رات کے چاند کی طرح روشن کی جاتی ہے۔ کیا تم جانتے ہو یہ آیت کس بارے میں نازل ہوئی: 'بے شک اس کے لیے تنگ زندگی ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے۔' کیا تم جانتے ہو تنگ زندگی کیا ہے؟" لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا: "کافر کا اپنی قبر میں عذاب۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ننانوے اژدہے اس پر مسلط کیے جاتے ہیں۔ جانتے ہو اژدہا کیا ہے؟ ستر سانپ، ہر سانپ کے سات سر، قیامت تک ڈستے اور نوچتے رہتے ہیں۔"
