عربی (اصل)
أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرَيْشٍ أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ ثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُ قَالَ «مَا أَشْبَهَتِ النَّاسُ الْيَوْمَ فِي الْمَسْجِدِ وَكَثْرَةِ الطَّيَالِسَةِ إِلَّا بِيَهُودَ خَيْبَرَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَمَعْنَاهُ الطَّيَالِسَةُ الْمُصَبَّغَةُ فَإِنَّهَا لِبَاسُ الْيَهُودِ صحيح
انگریزی ترجمہ
Hadrat Anas ibn Malik (may Allah be well pleased with him) narrated: "The people in the mosque today, with their abundance of taylasan cloaks, resemble none but the Jews of Khaybar." This hadith has a sound chain of transmission, though they [al-Bukhari and Muslim] did not record it. Its meaning refers to the dyed taylasan cloaks, for they were the garments of the Jews.
اردو ترجمہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: "آج مسجد میں لوگ اپنی طیالسہ [چادروں] کی کثرت کے ساتھ خیبر کے یہودیوں سے مشابہت رکھتے ہیں۔" یہ حدیث صحیح الاسناد ہے مگر بخاری و مسلم نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس سے مراد رنگی ہوئی طیالسہ ہیں کیونکہ وہ یہودیوں کا لباس تھا۔
