عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ ثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ ثَنَا شُعَيْبُ بْنُ عَمْرٍو ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ الْعَبَّاسُ بِالْمَدِينَةِ فَطَلَبَتِ الْأَنْصَارُ ثَوْبًا يَلْبَسُونَهُ فَلَمْ يَجِدُوا قَمِيصًا يَصْلُحُ عَلَيْهِ إِلَّا قَمِيصَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ فَكَسَوْهُ إِيَّاهُ قَالَ جَابِرٌ وَكَانَ الْعَبَّاسُ أَسِيرَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ يَوْمَ بَدْرٍ وَإِنَّمَا أُخْرِجَ كَرْهًا فَحُمِلَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَكَسَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ قَمِيصَهُ فَلِذَلِكَ «كَفَّنَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي قَمِيصِهِ مُكَافَأَةً لِمَا فَعَلَ بِالْعَبَّاسِ»
انگریزی ترجمہ
Abu Sa'id Ahmad ibn Ya'qub al-Thaqafi informed us, Musa ibn Harun narrated to us, Shu'ayb ibn Amr narrated to us, Sufyan ibn Uyayna narrated to us from Muhammad ibn al-Munkadir, from Hadrat Jabir (may Allah be well pleased with him) who said: "When Hadrat al-Abbas (may Allah be well pleased with him) was in Medina, the Ansar sought a garment for him to wear but could not find a shirt that would fit him except a shirt of Abdullah ibn Ubayy, so they clothed him in it." Jabir said: "Al-Abbas was a prisoner of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) on the day of Badr. He had been brought out reluctantly and was carried to Medina, where Abdullah ibn Ubayy gave him his shirt. That is why the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) shrouded him (Ibn Ubayy) in his own shirt - in return for what he had done for al-Abbas."
اردو ترجمہ
ابو سعید احمد بن یعقوب ثقفی نے ہمیں خبر دی، موسیٰ بن ہارون نے ہمیں بیان کیا، شعیب بن عمرو نے ہمیں بیان کیا، سفیان بن عیینہ نے محمد بن المنکدر سے، حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا، فرمایا: «جب حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ میں تھے تو انصار نے ان کے لیے لباس ڈھونڈا مگر کوئی قمیص ان پر فٹ نہیں آتی تھی سوائے عبد اللہ بن ابی کی قمیص کے تو انہوں نے وہ پہنا دی۔» جابر نے فرمایا: «عباس بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے قیدی تھے۔ انہیں مجبوراً (بدر میں) لایا گیا تھا اور مدینہ لائے گئے تو عبد اللہ بن ابی نے اپنی قمیص پہنا دی۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے (عبد اللہ بن ابی کو) اپنی قمیص میں کفن دیا - عباس کے ساتھ اس کے احسان کے بدلے میں۔»
