عربی (اصل)
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَبَّانِيُّ ثنا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي ثنا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ «إِنَّكَ لَتَرَى الرَّجُلَ يَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ وَقَدْ وَقَعَ اسْمُهُ فِي الْمَوْتَى» ثُمَّ قَرَأَ {إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ فِيهَا يُ��ْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ} [الدخان 4] يَعْنِي لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَفِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ يُفْرَقُ أَمْرُ الدُّنْيَا إِلَى مِثْلِهَا مِنْ قَابِلٍ «صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» صحيح على شرط مسلم «إِنَّكَ لَتَرَى الرَّجُلَ يَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ وَقَدْ وَقَعَ اسْمُهُ فِي الْمَوْتَى» ثُمَّ قَرَأَ {إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ} [الدخان 4] يَعْنِي لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَفِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ يُفْرَقُ أَمْرُ الدُّنْيَا إِلَى مِثْلِهَا مِنْ قَابِلٍ «صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» صحيح على شرط مسلم
انگریزی ترجمہ
Muhammad ibn Salih ibn Hani narrated to me — al-Husayn ibn Muhammad ibn Ziyad al-Qabbani narrated to us — Abu Uthman Sa'id ibn Yahya ibn Sa'id al-Umawi narrated to us — my father narrated to me — Uthman ibn Hakim narrated to us — from Sa'id ibn Jubayr — from Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) who said: Indeed, you see a man walking in the markets while his name has already been written among the dead. Then he recited: {Indeed, We sent it down during a blessed night. Indeed, We were to warn. On that night is made distinct every precise matter} [al-Dukhan 3-4], meaning the Night of Qadr. On that night the affairs of the world are decreed until its like the following year. The chain is authentic and they did not narrate it. It is authentic upon the conditions of Muslim.
اردو ترجمہ
محمد بن صالح بن ہانی نے مجھ سے بیان کیا — حسین بن محمد بن زیاد القبّانی نے ہم سے بیان کیا — ابو عثمان سعید بن یحییٰ بن سعید الاموی نے ہم سے بیان کیا — میرے والد نے مجھ سے بیان کیا — عثمان بن حکیم نے ہم سے بیان کیا — سعید بن جبیر سے — حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ فرمایا: بے شک تم ایک آدمی کو بازاروں میں چلتے دیکھتے ہو حالانکہ اُس کا نام مُردوں میں لکھا جا چکا ہوتا ہے۔ پھر تلاوت فرمائی: {بے شک ہم نے اِسے ایک مبارک رات میں نازل فرمایا، بے شک ہم ڈرانے والے ہیں، اُس رات میں ہر حکمت والا معاملہ فیصل کیا جاتا ہے} [الدخان 3-4] یعنی شبِ قدر۔ اُس رات میں دنیا کے معاملات آئندہ سال تک اُسی رات تک فیصل کیے جاتے ہیں۔ سند صحیح ہے اور اُنہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ یہ شرط مسلم پر صحیح ہے۔
