عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ عَلِمْتَ أَنَّكَ نَبِيٌّ حَتَّى اسْتَيْقَنْتَ؟، فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ،أَتَانِي مَلَكَانِ وَأَنَا بِبَعْضِ بَطْحَاءِ مَكَّةَ فَوَقَعَ أَحَدُهُمَا عَلَي الْأَرْضِ، وَكَانَ الْآخَرُ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : أَهُوَ هُوَ؟، قَالَ : نَعَمْ، قَالَ : فَزِنْهُ بِرَجُلٍ، فَوُزِنْتُ بِهِ فَوَزَنْتُهُ، ثُمَّ قَالَ : فَزِنْهُ بِعَشَرَةٍ، فَوُزِنْتُ بِهِمْ فَرَجَحْتُهُمْ، ثُمَّ قَالَ : زِنْهُ بِمِئَةٍ، فَوُزِنْتُ بِهِمْ فَرَجَحْتُهُمْ، ثُمَّ قَالَ : زِنْهُ بِأَلْفٍ، فَوُزِنْتُ بِهِمْ فَرَجَحْتُهُمْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَنْتَثِرُونَ عَلَيَّ مِنْ خِفَّةِ الْمِيزَانِ، قَالَ : فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : لَوْ وَزَنْتَهُ بِأُمَّتِهِ لَرَجَحَهَا "
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Dharr al-Ghifari (may Allah be well pleased with him) narrated: 'I submitted: O Messenger of Allah, how did you know that you are a Prophet until you became certain?' He stated: 'O Abu Dharr, two angels came to me while I was in a valley of Makkah. One of them descended to the ground and the other was between the heaven and the earth. One of them said to the other: Is he the one? He said: Yes. He said: Weigh him against one man. So I was weighed against him and I outweighed him. Then he said: Weigh him against ten. So I was weighed against them and I outweighed them. Then he said: Weigh him against a hundred. So I was weighed against them and I outweighed them. Then he said: Weigh him against a thousand. So I was weighed against them and I outweighed them, as if I could see them scattering above me due to the lightness of the scale. One of them said to the other: Even if you weighed him against his entire nation, he would outweigh them.'
اردو ترجمہ
حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ آپ نبی ہیں یہاں تک کہ آپ کو یقین ہو گیا؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابو ذر! دو فرشتے میرے پاس آئے جب میں مکہ کی ایک وادی میں تھا۔ ان میں سے ایک زمین پر اترا اور دوسرا آسمان و زمین کے درمیان تھا۔ ایک نے دوسرے سے کہا: کیا یہ وہی ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ کہا: اسے ایک آدمی سے تولو، مجھے اس سے تولا گیا تو میں بھاری رہا۔ پھر کہا: دس سے تولو، مجھے ان سے تولا گیا تو میں بھاری رہا۔ پھر کہا: سو سے تولو، مجھے ان سے تولا گیا تو میں بھاری رہا۔ پھر کہا: ہزار سے تولو، مجھے ان سے تولا گیا تو میں بھاری رہا، گویا میں دیکھ رہا تھا کہ ترازو کے ہلکے ہونے سے وہ میرے اوپر بکھر رہے ہیں۔ ایک نے دوسرے سے کہا: اگر تم اسے اس کی پوری امت سے بھی تولو تو یہ ان سب پر بھاری رہے گا۔
