عربی (اصل)
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سُفْيَانَ، أَنَّ هِرَقْلَ، قَالَ لَهُ سَأَلْتُكَ هَلْ يَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ، فَزَعَمْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ، وَكَذَلِكَ الإِيمَانُ حَتَّى يَتِمَّ. وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ سَخْطَةً لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ، فَزَعَمْتَ أَنْ لاَ، وَكَذَلِكَ الإِيمَانُ حِينَ تُخَالِطُ بَشَاشَتُهُ الْقُلُوبَ، لاَ يَسْخَطُهُ أَحَدٌ.
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abdullah bin Abbas (may Allah be well pleased with them both) narrates that Abu Sufyan informed him that Heraclius said to him: I asked you whether his followers are increasing or decreasing. You claimed they are increasing, and such is the nature of faith until it is complete. And I asked you whether anyone becomes displeased with his religion and apostatises after entering it. You claimed that they do not, and such is the nature of faith when its delight permeates the hearts — no one becomes displeased with it.
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت ابوسفیان نے انہیں بتایا کہ ہرقل نے ان سے کہا تھا: میں نے تم سے پوچھا تھا کہ اس (رسول) کے ماننے والے بڑھ رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں؟ تم نے بتایا کہ بڑھ رہے ہیں، اور ایمان کا یہی حال ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ کامل ہو جائے۔ اور میں نے تم سے پوچھا تھا کہ کیا کوئی اس کے دین میں آ کر ناراض ہو کر مرتد ہوتا ہے؟ تم نے کہا نہیں، اور ایمان کی خاصیت یہی ہے کہ جب اس کی خوشی دلوں میں سما جائے تو کوئی اس سے ناراض نہیں ہوتا۔
