عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا بَيَانٌ، أَنَّ وَبَرَةَ، حَدَّثَهُ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا أَوْ إِلَيْنَا ابْنُ عُمَرَ، فَقَالَ رَجُلٌ كَيْفَ تَرَى فِي قِتَالِ الْفِتْنَةِ. فَقَالَ وَهَلْ تَدْرِي مَا الْفِتْنَةُ كَانَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم يُقَاتِلُ الْمُشْرِكِينَ، وَكَانَ الدُّخُولُ عَلَيْهِمْ فِتْنَةً، وَلَيْسَ كَقِتَالِكُمْ عَلَى الْمُلْكِ.
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Sa`id bin Jubair that Hadrat Ibn `Umar came to us and a man said (to him), "What do you think about 'Qit-alal-Fitnah' (fighting caused by afflictions)." Hadrat Ibn `Umar said (to him), "And do you understand what an affliction is? Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) used to fight against the pagans, and his fighting with them was an affliction, (and his fighting was) not like your fighting which is carried on for the sake of ruling
اردو ترجمہ
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے بیان نے بیان کیا، ان سے وبرہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سعید بن جبیر نے بیان کیا، کہا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہمارے پاس تشریف لائے، تو ایک صاحب نے ان سے پوچھا کہ ( مسلمانوں کے باہمی ) فتنہ اور جنگ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ان سے پوچھا تمہیں معلوم بھی ہے ”فتنہ“ کیا چیز ہے۔ محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مشرکین سے جنگ کرتے تھے اور ان میں ٹھہر جانا ہی فتنہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی جنگ تمہاری ملک و سلطنت کی خاطر جنگ کی طرح نہیں تھی۔
