عربی (اصل)
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ أَبَى أَنْ يَدْخُلَ الْبَيْتَ وَفِيهِ الآلِهَةُ، فَأَمَرَ بِهَا فَأُخْرِجَتْ، فَأُخْرِجَ صُورَةُ إِبْرَاهِيمَ، وَإِسْمَاعِيلَ فِي أَيْدِيهِمَا مِنَ الأَزْلاَمِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " قَاتَلَهُمُ اللَّهُ لَقَدْ عَلِمُوا مَا اسْتَقْسَمَا بِهَا قَطُّ ". ثُمَّ دَخَلَ الْبَيْتَ، فَكَبَّرَ فِي نَوَاحِي الْبَيْتِ، وَخَرَجَ وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ. تَابَعَهُ مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ. وَقَالَ وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
انگریزی ترجمہ
Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) narrates that when the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) arrived at Makkah al-Mukarramah, he refused to enter the Ka'bah while there were idols in it. He ordered them to be taken out. The images of Hadrat Ibrahim and Hadrat Isma'il (upon them both be peace) were brought out, with divining arrows in their hands. He declared: May Allah destroy them (the polytheists)! They well knew that these two (Prophets) never sought fortune through divining arrows. Then he entered the Ka'bah and said Takbir in every direction, but did not offer prayer (in one narration it is mentioned that he did pray).
اردو ترجمہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے تو کعبہ شریف میں داخل ہونے سے انکار فرمایا جبکہ اس میں بت تھے۔ آپ نے حکم فرمایا تو وہ باہر نکالے گئے۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی تصویریں نکالی گئیں جن کے ہاتھوں میں فال کے تیر تھے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: اللہ ان (مشرکین) کو غارت کرے! وہ خوب جانتے تھے کہ ان دونوں (انبیاء) نے کبھی فال کے تیروں سے قسمت نہیں آزمائی۔ پھر آپ کعبہ شریف میں داخل ہوئے اور ہر طرف تکبیر کہی لیکن نماز نہیں پڑھی (ایک روایت میں ہے کہ نماز پڑھی)۔
