عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ بَيْنَا النَّاسُ بِقُبَاءٍ فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ إِذْ جَاءَهُمْ آتٍ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ قُرْآنٌ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ فَاسْتَقْبِلُوهَا، وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّأْمِ، فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ.
انگریزی ترجمہ
It is narrated from Hadrat Abdullah bin Umar (may Allah be well pleased with them both) who said: While the people were offering the Fajr prayer at Quba', someone came and said, 'The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) has received Qur'anic revelation tonight, and he has been commanded to face the Ka'bah — so turn towards it.' At that time their faces were towards Sham (the direction of Bait al-Maqdis), so they all turned and faced the Ka'bah.
اردو ترجمہ
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہمیں امام مالک بن انس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عبداللہ بن دینار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے خبر دی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے، انہوں نے فرمایا کہ لوگ قباء میں فجر کی نماز پڑھ رہے تھے کہ اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر آج رات قرآن مجید نازل ہوا ہے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو حکم ہوا ہے کہ کعبہ شریف کی طرف رخ فرمائیں، لہٰذا تم بھی کعبہ کی طرف رخ کرو۔ اس وقت ان لوگوں کا رخ شام (بیت المقدس) کی طرف تھا، پس وہ سب گھوم کر کعبہ شریف کی طرف ہو گئے۔
