عربی (اصل)
حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتِ اسْتَأْذَنَ حَسَّانُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ، قَالَ " كَيْفَ بِنَسَبِي ". فَقَالَ حَسَّانُ لأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعَرَةُ مِنَ الْعَجِينِ. وَعَنْ أَبِيهِ قَالَ ذَهَبْتُ أَسُبُّ حَسَّانَ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ لاَ تَسُبُّهُ فَإِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) that once Hassan bin Thabit asked the permission of the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) to lampoon (i.e. compose satirical poetry defaming) the infidels. the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, "What about the fact that I have common descent with them?" Hassan replied, "I shall take you out of them as a hair is taken out of dough." Narrated `Urwa: I started abusing Hassan in front of `Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her), whereupon she said. "Don't abuse him, for he used to defend the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) (with his poetry)
اردو ترجمہ
مجھ سے حضرت عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے مشرکین ( قریش ) کی ہجو کرنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پھر میں بھی تو ان ہی کے خاندان سے ہوں۔ اس پر حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ میں آپ کو ( شعر میں ) اس طرح صاف نکال لے جاؤں گا جیسے آٹے میں سے بال نکال لیا جاتا ہے۔ اور ( ہشام نے ) اپنے والد سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا، حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے یہاں میں حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو برا کہنے لگا تو انہوں نے فرمایا، انہیں برا نہ کہو، وہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے مدافعت کیا کرتے تھے۔
