عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلاً ـ ثُمَّ قَرَأَ – {كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ} وَأَوَّلُ مَنْ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ، وَإِنَّ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِي يُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ أَصْحَابِي أَصْحَابِي. فَيَقُولُ، إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ. فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ {وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ} إِلَى قَوْلِهِ {الْحَكِيمُ }"
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) that the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, 'You shall be gathered on the Day of Resurrection barefoot, unclothed, and uncircumcised.' Then he recited: 'As We began the first creation, We shall repeat it — a promise binding upon Us; indeed, We shall fulfill it.' (21:104) 'And the first to be clothed on the Day of Resurrection shall be Hadrat Ibrahim (upon him be peace). And some of my Companions will be taken towards the left side, and I shall cry out: My Companions! My Companions! It will be said: They continued to turn back on their heels after you departed from them. Then I shall say as the righteous servant (Hadrat Isa, upon him be peace) stated: "And I was a witness over them as long as I was among them..." to His words: "the All-Wise."'
اردو ترجمہ
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، ان سے مغیرہ بن نعمان نے بیان کیا، کہا مجھ سے سعید بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا "تم لوگوں کو حشر کے میدان میں ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بن ختنہ اٹھایا جائے گا۔" پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «كما بدأنا أول خلق نعيده وعدا علينا إنا كنا فاعلين» (جیسے ہم نے پہلی تخلیق شروع کی ویسے ہی دوبارہ پیدا کریں گے، یہ ہمارا وعدہ ہے جو ہم ضرور پورا کریں گے۔) اور قیامت کے دن سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا۔ اور میرے بعض اصحاب کو بائیں جانب لے جایا جائے گا۔ میں پکاروں گا: میرے اصحاب! میرے اصحاب! تو مجھے بتایا جائے گا کہ آپ کے جدا ہونے کے بعد یہ لوگ مرتد ہو گئے تھے۔ تب میں وہی بات کہوں گا جو نیک بندے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) نے فرمائی تھی: «وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم» (جب تک میں ان میں رہا ان پر گواہ رہا) آیت «الحكيم» تک۔
