عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ خَرَجْنَا لاَ نَرَى إِلاَّ الْحَجَّ، فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَبْكِي قَالَ " مَا لَكِ أَنُفِسْتِ ". قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ " إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ، غَيْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ ". قَالَتْ وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ.
انگریزی ترجمہ
It is narrated from Hadrat al-Qasim that Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) stated: We set out with the sole intention of performing Hajj. When we reached Sarif (a place about six miles from Makkah), I got my menses. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) came to me while I was weeping. He stated, 'What is the matter with you? Have you got your menses?' I submitted, 'Yes.' He stated, 'This is a matter which Allah has ordained for the daughters of Adam (upon him be peace), so do what all the pilgrims do except that you do not perform Tawaf around the Ka'bah.' Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) added: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) sacrificed cows on behalf of his blessed wives.
اردو ترجمہ
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا میں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے سنا، کہا میں نے قاسم سے سنا، وہ فرماتے تھے کہ میں نے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا، آپ فرماتی تھیں کہ ہم صرف حج کے ارادے سے نکلے۔ جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو مجھے حیض آ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا بات ہے، کیا تمہیں حیض آ گیا؟ میں نے عرض کیا ہاں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ ایک ایسی بات ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی بیٹیوں کے لیے مقرر فرما دی ہے، لہٰذا تم وہ سب کام کرو جو حاجی کرتا ہے مگر بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے گائے کی قربانی فرمائی۔
