عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ نَزَلْنَا الْمُزْدَلِفَةَ فَاسْتَأْذَنَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَوْدَةُ أَنْ تَدْفَعَ قَبْلَ حَطْمَةِ النَّاسِ، وَكَانَتِ امْرَأَةً بَطِيئَةً، فَأَذِنَ لَهَا، فَدَفَعَتْ قَبْلَ حَطْمَةِ النَّاسِ، وَأَقَمْنَا حَتَّى أَصْبَحْنَا نَحْنُ، ثُمَّ دَفَعْنَا بِدَفْعِهِ، فَلأَنْ أَكُونَ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَمَا اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ مَفْرُوحٍ بِهِ.
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Umm al-Mu'minin Hadrat 'Aisha (may Allah be well pleased with her) that we got down at al-Muzdalifa and Hadrat Umm al-Mu'minin Sauda (may Allah be well pleased with her) asked the permission of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) to leave (early) before the rush of the people. She was a slow woman and he gave her permission, so she departed (from al-Muzdalifa) before the rush of the people. We kept on staying at al-Muzdalifa till dawn, and set out with the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), but (I suffered so much that) I wished I had taken the permission of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) as Hadrat Sauda (may Allah be well pleased with her) had done, and that would have been dearer to me than any other happiness.
اردو ترجمہ
ہم سے حضرت ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے افلح بن حمید نے، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے حضرت حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ جب ہم نے مزدلفہ میں قیام فرمایا تو حضرت اُمّ المؤمنین سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے لوگوں کے اژدہام سے پہلے روانہ ہونے کی اجازت چاہی، وہ بھاری بھرکم بدن کی خاتون تھیں، اس لیے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت مرحمت فرمائی، چنانچہ وہ اژدہام سے پہلے روانہ ہو گئیں۔ لیکن ہم وہیں ٹھہرے رہے اور صبح کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے۔ اگر میں بھی حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرح رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت لے لیتی تو مجھے تمام خوشی کی چیزوں سے یہ بہت ہی محبوب ہوتا۔
